مشرف کے وکلا کو ’کالے‘ فیصلے کی توقع

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایسا محسوس ہوتا تھا کہ سابق صدر کے وکلا کو اس درخواست پر آنے والے فیصلے کا پہلے سے علم تھا

خصوصی عدالت کی طرف سے سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ فوجی عدالت میں بھیجنے سے انکار سے متعلق جنرل مشرف کے وکلا کا کہنا ہے کہ اُنھیں اس عدالت سے ایسے ہی فیصلے کی توقع تھی۔

دوسری جانب سابق وزیر قانون ایس ایم ظفر کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ ملکی تاریخ کا منفرد مقدمہ ہے اس لیے سپریم کورٹ خصوصی عدالت کے اس فیصلے کے خلاف درخواست کو ضرور سُنے گی۔

’مسٹر مشرف آپ کھڑے ہو جائیں‘

میرا مقدمہ فوجی عدالت میں چلائیں: مشرف

خصوصی عدالت نے جب پرویز مشرف کی طرف سے دائر کی جانے والی درخواست پر فیصلہ سُنانا شروع کیا تو ایسے محسوس ہوتا تھا کہ سابق صدر کے وکلا کو اس درخواست پر آنے والے فیصلے کا پہلے سے ہی علم تھا۔

خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس فیصل عرب ابھی یہ فیصلہ پڑھ ہی رہے تھے کہ مشرف کی وکلا ٹیم میں شامل رانا اعجاز روسٹرم پر آگئے اور اُنھوں نے اس فیصلے کو ’کالا فیصلہ‘ قرار دیا۔رانا اعجاز کی یہ خواہش ضرور تھی کہ ہو سکتا ہے کہ خصوصی عدالت کے جج اُنھیں توہین عدالت میں جیل بھجوا دیں لیکن عدالت نے ایسا نہیں کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption شریف الدین پیرزادہ بھی پرویز مشرف کی وکلا کی ٹیم کا حصہ ہیں

یاد رہے کہ رانا اعجاز نے اسی مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت سے استدعا کی تھی کہ پرویز مشرف کی جگہ اُنھیں پھانسی دی جائے۔

جمعے کو ہونے والے اس مقدمے کی سماعت کے دوران یہ اُمید کی جا رہی تھی کہ عدالت ججوں کے متعصب ہونے کی درخواستوں پر بھی فیصلہ سُنائے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔

پرویز مشرف کی وکلا ٹیم میں شامل فیصل چوہدری کا کہنا ہے کہ وہ خصوصی عدالت کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ اس عدالتی فیصلے کے خلاف چارہ جوئی کے لیے تمام دستیاب قانونی راستے اختیار کریں گے۔

یاد رہے کہ سابق صدر کی وکلا ٹیم نے اس سے پہلے خصوصی عدالت کی طرف سے فوجداری اختیارات استعمال کرنے کے فیصلے کو بھی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا جسے عدالت عظمیٰ نے یہ اعتراض لگا کر واپس کر دیا تھا کہ چونکہ یہ مفادِ عامہ کا معاملہ نہیں ہے اس لیے وہ اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کریں۔

فیصل چوہدری کا کہنا ہے کہ خصوصی عدالت کے اس فیصلے کے بعد ضابطۂ فوجداری کے اختیارت استعمال کرنے والی عدالتوں کو فوجی افسروں اور جوانوں کے خلاف کارروائی کرنے کا جواز مل جائے گا جس سےاداروں کے آپس میں ٹکراؤ کے امکانات بڑھ جائیں گے کیونکہ فوجی وردی میں ملبوس کوئی اہلکار جب کوئی جُرم کرتا ہے تو صرف آرمی ایکٹ کے تحت ہی اُس کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔

سابق وزیر قانون ایس ایم ظفر کا کہنا ہے کہ آرمی ایکٹ میں تین مرتبہ تبدیلی کی گئی۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ اس ایکٹ میں تبدیلی کے دوران کسی فوجی کا آئین کی خلاف ورزی یا غداری کے مقدمے کو فوجی عدالت میں چلانے کے بارے میں کہا گیا تھا بعدازاں اس کو اس ایکٹ سے نکال دیا گیا اور ایسے مقدمے کی سماعت خصوصی عدالت میں کرنے کی شق شامل کی گئی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم سے متعلق ابھی تک کوئی جواز پیش نہیں کیا گیا۔

اُنھوں نے کہا کہ سابق فوجی صدر کے خلاف غداری کا مقدمہ ملکی تاریخ میں بہت اہم نوعیت کا مقدمہ ہے اس لیے اُنھیں اُمید ہے کہ خصوصی عدالت کے اس فیصلے کے خلاف پرویز مشرف کے وکلا کی طرف سے دائر ہونے والی درخواست کو سپریم کورٹ ضرور سُنے گی۔

ایس ایم ظفر کا کہنا تھا ملکی تاریخ میں ایسی مثال بھی موجود ہے کہ سابق ٹو اور تھری سٹار جرنیلوں کو بدعنوانی کے الزام میں دوبارہ فوج میں شامل کرکے اُن کا کورٹ مارشل کیا گیا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں سابق وزیر قانون نے کہا کہ بہتر ہوتا کہ عدالت اُس درخواست کا بھی فیصلہ کر دیتی جس میں بینچ میں موجود دو ججوں جن میں بینچ کے سربراہ جسٹس فیصل عرب اور جسٹس یاور علی شامل ہیں، پر متصب ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سابق فوجی صدر کو غداری کے مقدمے میں منطقی انجام تک پہنچانے کی خواہش رکھنے والوں کو خاصا عرصہ انتظار کرنا پڑے گا کیونکہ یہ مقدمہ جلدی ختم ہونے والا نہیں ہے۔

اسی بارے میں