مشرف پر مقدمہ فوجی نہیں، خصوصی عدالت میں چلے گا: عدالت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عدالت نے کہا کہ پرویز مشرف کے وکلا نے جس آرمی ایکٹ کا حوالہ دیا وہ سنہ 1981 میں کالعدم ہو چکا ہے

پاکستان کی ایک خصوصی عدالت نے ملک کے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کو فوجی عدالت میں منتقل کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے فیصلہ دیا ہے کہ ان کے خلاف مقدمہ فوجی عدالت میں نہیں، خصوصی عدالت ہی میں چلے گا۔

عدالت نے پرویز مشرف کی طرف سے اپنے خلاف مقدمے کو فوجی عدالت میں منتقل کرنے کی درخواست پر فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ اس خصوصی عدالت کو مشرف کے خلاف مقدمہ سننے کا اختیار حاصل ہے۔

’مسٹر مشرف آپ کھڑے ہو جائیں!‘

عدالت نے یہ فیصلہ جمعے کو پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کے دوران سنایا۔ عدالت نے پرویز مشرف کو 11 مارچ کو طلب کیا ہے اور امکان ہے کہ اس دن سماعت کے دوران ان پر فردِ جرم بھی عائد کی جائے۔

خصوصی عدالت کے تین رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ پرویز مشرف سنہ 2007 میں فوج سے ریٹائر ہو چکے تھے اس لیے ان پر آرمی ایکٹ کا اطلاق نہیں ہوتا۔

عدالت نے کہا کہ پرویز مشرف کے وکلا نے جس آرمی ایکٹ کا حوالہ دیا ہے وہ سنہ 1981 میں کالعدم ہو چکا ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ججوں کے متعصب ہونے اور غداری کے مقدمے کے لیے چیف پراسیکیوٹر کی تعیناتی کے حوالے سے درخواستوں پر بھی جلد ہی فیصلہ سنایا جائے گا۔

پرویز مشرف کے وکلا نے عدالتی فیصلے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’کالا فیصلہ‘ قرار دیا۔

یاد رہے کہ منگل کو گذشتہ سماعت کے موقع پر پرویز مشرف کے وکلا نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ وہ خصوصی عدالت کے دائرۂ کار اور مقدمے کی فوجی عدالت میں منتقلی کی درخواستوں پر فیصلے تک ملزم پر غداری کے مقدمے میں فردِ جرم عائد نہ کرے۔

اب امکان ہے کہ پرویز مشرف پر 11 مارچ کو ہونے والی سماعت کے دوران فردِ جرم عائد کی جائے گی۔

اسی بارے میں