بلوچستان: پاکستان کی’دوسری جنگ‘

پاکستان اور طالبان کے درمیان مذاکرات شہ سرخیوں میں ہیں اور سیاستدانوں اور سفارتکاروں سمیت سب کی توجہ ان مذاکرات پر ہے۔ لیکن معروف تجزیہ کار احمد رشید کا کہنا ہے کہ اُس بات چیت پر کسی کی توجہ نہیں جو پاکستان کی تاریخ کی سب سے طویل خانہ جنگی کو ختم کر سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکومت نے ابھی تک اس قافلے کی جانب کوئی توجہ نہیں دی، جیسے گمشدہ افراد کا کبھی کوئی وجود تھا ہی نہیں

17 جنوری کو بلوچستان میں خضدار کے قریب گاؤں تُوتک میں ایک اجتماعی قبر سے تیرہ لاشیں برآمد ہوئیں۔ اب تک ان میں سے صرف دو مسخ شدہ لاشوں کی شناخت ہو سکی ہے اور یہ ان دو افراد کی تھیں جو چار ماہ پہلے لاپتہ ہو گئے تھے۔

روزنامہ ’ڈان‘ سے منسلک صحافی ساحر بلوچ کی اجتماعی قبر کی دریافت کے بارے میں دل شکن رپورٹ کا اختتام ایک سرکاری اہلکار کی اس متوقع پیشن گوئی پر ہوتا ہے کہ اس قسم کی کئی اور لاشیں منتظر ہیں کہ انہیں بھی دریافت کیا جائے۔

فرنٹیئر کور، لشکر جھنگوی اور دیگر گروہ سب کے سب ایک دھائی سے ’لوگوں کو اٹھاؤ اور دفن کرو‘ کی ایک مہم پر ہیں جس میں بلوچ علیحدگی پسندوں، دہشتگردوں اور حتیٰ کہ عام بلوچوں کو اٹھا کر غائب کیا جارہا ہے، ان پر تشدد کیا جارہا ہے، ان کی جسموں کو مسخ کیا جا رہا ہے اور آخر میں انھیں ہلاک کیا جا رہا ہے۔

فوج، نیم فوجی ادارے اور حکومت مسلسل اس بات سے انکار کرتے آ رہے ہیں کہ وہ بلوچستان میں جاری تشدد میں شامل ہیں، بلکہ وہ علاقے میں سرگرم عمل مسلح گروہوں پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔

یہاں تک کہ پاکستان کی سپریم کورٹ بھی بلوچستان میں گمشدہ افراد کے بارے میں کئی بار استفسار کر چکی ہے لیکن وزیراعظم نواز شریف کی حکومت اس معاملے میں کوئی قدم اٹھانے میں ناکام ہو چکی ہے۔

ان کہی کہانی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اس سے پہلے کی بغاوتوں کے دوران عسکریت پسند بلوچ گروہوں کا نشانہ صرف پاکستانی فوج تھی

کوئی نہیں جانتا کہ بلوچستان سے کتنے لوگ غائب ہو چکے ہیں۔ ایسے افراد کی تعداد چند سو اور کئی ہزار کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ گمشدہ افراد کے گھر والے حکومت کے سامنے اپنی حالتِ زار بیان کرنے کے لیے سردی کے ان مہینوں میں کراچی سے اسلام آباد کی جانب ایک لانگ مارچ کر رہے ہیں۔

اس سفر میں شامل بوڑھے مرد اور عورتیں چادریں اوڑھے سردی اور بارش میں اپنے بچوں کو گھسیٹ رہے ہیں۔ فروری کے شروع میں یہ قافلہ لاہور تک کا فیصلہ طے کر چکا تھا جہاں وہ چار ماہ کے پیدل سفر کے بعد پہنچے تھے۔

ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس تو دفنانے کے لیے لاش بھی نہیں ہے۔ یہ لوگ معلوم کرنا چاہتے ہیں ان کے گھرانوں کے افراد آخر گئے کہاں۔ لیکن حکومت نے ابھی تک اس قافلے کی جانب کوئی توجہ نہیں دی، جیسے گمشدہ افراد کا کبھی کوئی وجود تھا ہی نہیں۔

بلوچستان میں اتنے زیادہ صحافی مارے جا چکے ہیں کہ اب وہ بہت خوفزدہ ہو چکے ہیں اور قومی اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا میں صوبے کے بارے میں سچائی پر مبنی خبریں بہت کم ہی نظر آتی ہیں۔

اس دوران بلوچستان کی کمزور صوبائی حکومت کے وزیرِاعلیٰ عبدالمالک بلوچ قوم پرستوں کے ساتھ مذاکرات کا مطالبہ کر چکے ہیں۔وزیر اعلیٰ کے ہاتھ میں اس وقت تک کوئی طاقت نہیں ہو سکتی جب تک کہ حکومت اور فوج صوبے میں جاری تشدد پر قابو پانے اور عسکریت پسند جنگ بندی پر رضامند نہیں ہو جاتے۔

گزشتہ کئی برسوں کے دوران خود مختاری کے خواہاں بلوچ گروہ عسکریت پسند اور علیحدگی پسند ہو چکے ہیں۔ پاکستانی ریاست کے خلاف بلوچوں کی اس پانچویں بغاوت کا آغاز سنہ 2003 میں علیحدگی پسندوں کی چھوٹی چھوٹی گوریلا کارروائیوں سے ہوا۔ مگر اب ان کے رہنما، جو کہ زیادہ تر ملک سے باہر ہیں، پاکستان سے آزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

تشدد کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ

اس سے پہلے کی بغاوتوں کے دوران عسکریت پسند بلوچ گرہوں کا نشانہ صرف پاکستانی فوج تھی۔ اس مرتبہ وہ غیر بلوچ قومیتوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ وہ دیگر قومیتوں کو صوبے سے نکال باہر کریں۔

غائب ہونے والے ہر ایک بلوچ کے جواب میں کئی نئے نوجوان ہتھیار اٹھانے کا فیصلہ کر رہے ہیں۔ اسی طری سکیورٹی اہلکاروں پر ہر حملے کے نتیجے میں مزید افراد غائب کر دیے جاتے ہیں۔ ۔گزشتہ گیارہ برس سے تشدد کا یہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔

بلوچ قوم پرستوں کے غائب کیے جانے کا الزام فرنٹیئر کور پر لگایا جاتا ہے۔

المیہ یہ ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات پر ملک میں شدید بحت جاری ہے اور مذاکرات کے حامی اور مخالف لوگ روزانہ اس موضوع پر دھواں دھار بحثیں کر رہے ہیں، لیکن بلوچ قوم پرستوں سے مذاکرات کے بارے میں ملک میں کوئی جھگڑا دکھائی نہیں دیتا۔

بظاہر ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ بلوچ قوم پرستوں سے بات چیت کی ضرورت ہے، لیکن اصل مسئلہ فوج کا ہے کہ وہ رضامند ہے یا نہیں۔

پاکستان کے ہیومن رائیٹس کمیشن کے سربراہ آئی اے رحمٰن کے بقول:’ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے آغاز کے بعد تو یہ بات اور بھی مضحکہ خیز لگتی ہے کہ آپ بلوچ قوم پرستوں سے بات چیت نہیں کر رہے۔ (بلوچ قوم پرستوں) کے ساتھ بات چیت نہ کرنے سے پاکستان کو جو نقصان ہو رہا ہے اس کا اندزہ نہیں کیا جا سکتا۔‘

گذشتہ پانچ برسوں میں طالبان ہزاروں لوگوں کو ہلاک کر چکے ہیں۔ اس کے مقابلے میں بلوچستان کی شورش میں مارے جانے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔

لیکن پاکستان کی وفاقی حکومت کی جانب سے کسی بھی بڑے اقدام کی غیر موجودگی میں کہ جس میں وہ فوج، پارلیمان، سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے دیگر متعلقہ لوگوں کو اکھٹا کرتی ہے، لگتا ہے بلوچ شدت پسندوں کے ساتھ بات چیت کا کوئی امکان موجود ہے۔

طالبان کی دہشت گردی اور دوسری جانب کراچی میں جاری افراتفری کی موجودگی میں پاکستان نازک صورت حال کا شکار ہے۔اور اس دوران معیشت دن بدن خراب تر ہو گی۔

جب تک بلوچستان پر وفاقی حکومت خاموش ہے، پاکستان کی تاریخ کی طویل ترین خانہ جنگی میں مذید لاشیں گریں گی۔ اس سے نہ صرف خانہ جنگی کی طوالت کے ریکارڈ ٹوٹیں گے بلکہ بہت سے دِل بھی۔

اسی بارے میں