طالبان کے اہلِ خانہ فوج کی تحویل میں نہیں ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بیان کے مطابق طالبان کے اس بے بنیاد الزام کا مقصد پروپیگنڈہ پھیلانا ہے تاکہ ان کی ظالمانہ کاروائیوں سے توجہ ہٹائی جا سکے

پاکستان کی فوج نے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شدت پسندوں کی خواتین اور بچے سکیورٹی فورسز کی تحویل میں ہیں۔

فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے سنیچر کو جاری ہونے والے ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ اس بات میں کوئی حقیقت نہیں کہ طالبان کے اہلِ خانہ اور بچے فوج کی تحویل میں ہیں۔

’دہشت گردوں کو شہید کہنا، پاکستانی فوج کی توہین ہے‘

بیان میں وضاحت کی گئی کہ طالبان کی کوئی خاتون یا بچہ سکیورٹی فورسز کے قبضے میں نہیں ہے اور نہ ہی کبھی ان کو تحویل میں لیا گیا۔

بیان کے مطابق طالبان کے اس بے بنیاد الزام کا مقصد پروپیگنڈہ پھیلانا ہے تاکہ ان کی ظالمانہ کاروائیوں سے توجہ ہٹائی جا سکے۔

پاکستانی فوج کے اس وضاحتی بیان کے حوالے سے تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

خیال رہے کہ حکومت اور طالبان کے درمیان حالیہ مذاکرات کے دوران طالبان کی طرف سے یہ مطالبہ بھی سامنے آیا تھا کہ سکیورٹی فورسز کی تحویل میں قید ان کے اہل خانہ اور بچوں کو رہا کیا جائے۔

اسی بارے میں