’شامی باغیوں کے لیے پاکستانی اسلحے کی خبریں بےبنیاد ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اے ایف پی کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز کے دورۂ پاکستان کے موقع پر بھی اس بارے میں تفصیلی بات چیت کی گئی

پاکستانی حکام نے ان اطلاعات کو بےبنیاد قرار دیا ہے کہ سعودی حکومت نے شامی باغیوں کے لیے پاکستانی اسلحہ خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اتوار کو ایک خبر میں ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کی بنیاد پر دعویٰ کیا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان معاملات طے پانے کی صورت میں سعودی عرب پاکستان سےطیارہ شکن اور ٹینک شکن راکٹ اور میزائل خریدے گا۔

دفترِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے پیر کو بی بی سی اردو سے بات چیت میں کہا کہ یہ اطلاعات ’بے بنیاد اور فضول‘ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میڈیا خود ہی ایسی خبریں بنا لیتا ہے جن میں کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔‘

اے ایف پی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے سعودی حکومت نے شامی صدر بشار الاسد کی حامی فوج کے خلاف لڑنے والے شامی باغیوں کو جدید اسلحہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں سعودی اور پاکستانی حکام کے درمیان بات چیت بھی ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب طیارہ شکن میزائل ’عنزہ‘ خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے اور یہ اسلحہ اردن کے راستے شام میں برسرِ پیکار باغیوں کو بھیجا جائے گا۔

اے ایف پی نے اپنی خبر میں یہ بھی کہا کہ اسی سلسلےمیں گذشتہ دنوں آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا جبکہ سعودی ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز کے دورۂ پاکستان کے موقعے پر بھی اس بارے میں تفصیلی بات چیت کی گئی ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات میں گرم جوشی کی خبریں کچھ عرصے سے گرم ہیں اور گذشتہ برس بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ میں متعدد ذرائع کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ سعودی عرب نے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور سعودی عرب جب چاہے پاکستان سے یہ ہتھیار حاصل کر سکتا ہے۔

تاہم اس وقت بھی پاکستانی وزارتِ خارجہ نے اس خبر کی تردید کرتے ہوئے اسے ’بے بنیاد، شرانگیز اور فرضی‘ قرار دیا تھا۔

اسی بارے میں