ہمیں تو کرکٹ پسند ہی نہیں، طالبان کا جواب

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان میں مدارس کے طلبا میں کرکٹ کا کھیل کافی مقبول ہے

کالعدم تحریکِ طالبان نے پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار کی کرکٹ میچ کھیلنے کی پیشکش ٹھکراتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کھیل نوجوان نسل کو جہاد سے دور لے جانے کا ذمہ دار ہے۔

چوہدری نثار نے پیر کو اسلام آباد میں ایک نمائشی میچ کے موقع پر کہا تھا کہ اگر کالعدم تحریک طالبان کے ساتھ کرکٹ میچ ہو جائے تو اس کا نتیجہ اچھا نکلے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ انھیں اطلاع ملی ہے کہ کئی طالبان کرکٹ کا شوق رکھتے ہیں بلکہ پاکستان کے میچ بہت توجہ سے دیکھتے ہیں۔

طالبان کو کرکٹ میچ کی دعوت دیتے ہوئے انھوں نے میڈیا کے نمائندوں سے کہا: ’اگر آپ انھیں پیغام دے سکتے ہیں تو میرا خیال ہے کہ باقی کسی پلیٹ فارم پر مقابلے کے بجائے اگر ان سے کرکٹ میچ ہو جائے تو اچھا نتیجہ نکلے گا۔‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات چیت کے دوران اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ٹی ٹی پی کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے کہا کہ وہ پاکستانی وزیر کی پیشکش قبول نہیں کر سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ سیکیولر لوگ ہماری نوجوان نسل کو کرکٹ کی مدد سے جہاد اور اسلامی تعلیمات سے دور کرنا چاہتے ہیں۔ ہم کرکٹ کے خلاف ہیں اور اسے ناپسند کرتے ہیں۔‘

شاہد اللہ شاہد کا یہ بھی کہنا تھا کہ طالبان امن مذاکرات میں آنے والے تعطل کا خاتمہ چاہتے ہیں اور وہ بات چیت کے لیے آمادہ ہیں مگر ’حکومت ہی اس سلسلے میں مخلص نہیں۔‘

یاد رہے کہ پاکستان کی حکومت کی مذاکراتی کمیٹی اور طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

حکومت کی جانب سے اس حوالے سے آخری بیان وزیر داخلہ چوہدری نثار کی جانب سےگذشتہ جمعرات کو کی جانے والی پریس کانفرنس میں سامنے آیا۔ اس موقع پر وزیر داخلہ چوہدری نثار خان نے کہا کہ دہشت گرد حملے جاری رہنے کی صورت میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنا دہشت گردی کے متاثرین کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔

خیال رہے کہ ماضی میں بھی کرکٹ کے معاملے پر طالبان کے بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔

نومبر 2013 میں کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے پاکستانی میڈیا پر زور دیا تھا کہ وہ سچن تندولکر کی بجائے قومی ٹیم کے کپتان مصباح الحق کی تعریف کریں۔

طالبان کی جانب سے جاری کردہ اس ویڈیو میں کلاشنکوف اٹھائے نقاب پوش محافظوں کے ہمراہ شاہد اللہ شاہد نے کہا تھا :’ایک بھارتی کھلاڑی جس کا نام تندولکر ہے، اس کی پاکستانی میڈیا نے بہت تعریف کی اور درحقیقت بہت سے پاکستانیوں نے بھی اسے سراہا اور اسی وقت مصباح الحق سے ناراضی کا اظہار کیاگیا۔اگرچہ تندولکر ایک عظیم کھلاڑی ہے لیکن آپ کو اس کی تعریف نہیں کرنی چاہیے کیونکہ یہ قومی مفادات کے منافی ہے۔

’باوجود اس حقیقت کے کہ مصباح بہت برا کھلاڑی ہے، آپ کو اس کی تعریف کرنی چاہیے کیونکہ آخر کو ہے تو وہ پاکستانی۔‘

اسی بارے میں