’مذاکرات یا ملٹری آپریشن، سیاسی اتفاق ضروری‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تیرہ برس تک کوئی سکیورٹی پالیسی تشکیل نہیں دی گئی: چوہدری نثار

پاکستان کی قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے داخلی سکیورٹی پالیسی کے مسودے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انٹیلیجنس کی شیئرنگ کے لیے جوائنٹ انٹیلیجنس ڈائریکٹوریٹ بنایا جائے گا۔

قومی اسمبلی میں داخلی سکیورٹی پالیسی کا مسودہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ کے بعد پاکستان میں سب سے زیادہ انٹیلیجنس ایجنسیاں ہیں۔

پاکستان میں 26 عسکری اور سویلین انٹیلیجنس ایجنسیاں ہیں لیکن ان کا آپس میں رابطہ نہیں اور معلومات کی شیئرنگ نہیں ہوتی۔‘

انہوں نے کہا کہ نیشنل کاؤنٹر ٹیررزم اتھارٹی یعنی نیکٹا کو فوکل پوائنٹ بنایا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک ریپڈ رسپانس فورس بھی تشکیل کی جائے گی جو ہر صوبے میں ہو گی اور یہ فورس پولیس کے ماتحت ہو گی۔

چوہدری نثار نے کہا کہ ایک کاؤنٹر ٹیررزم فورس بھی بنائی جائے گی جو خفیہ معلومات کے حصول پر کارروائی کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ سکیورٹی کے مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات یا فوجی آپریشن جو بھی ضروری ہے وہ سیاسی اتفاق ہی کے ذریعے ہو گا۔

تقریر کرتے ہوئے انہوں نے پچھلی حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 13 سال سے کوئی سکیورٹی پالیسی تشکیل نہیں دی گئی، اور ہر حملے کے بعد حکومتیں خاموش رہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کی تشکیل کے لیے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو خطوط ارسال کیے کہ وہ اس حوالے سے اپنی آرا سے مطلع کریں۔ ’چاروں صوبوں میں سے کسی صوبے نے اپنی آرا سے مطلع نہیں کیا۔‘

انہوں نے کہا: ’اس پالیسی کا پہلا حصہ خفیہ رکھا جائے گا جس کا تعلق سکیورٹی پالیسی کے انتظامی معاملات سے ہے۔ دوسرا مرحلہ سٹریٹیجک ہے کہ موجودہ حالات سے آگے کیسا بڑھنا ہے اور اسی لیے مذاکرات کیے جا رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ سٹریٹیجک حصے میں کئی آپشنز سامنے آئی ہیں: ’ایک یہ کہ 13 سال سے جیسا چل رہا ہے ویسے چلنے دو۔ دوسری آپشن تھی مذاکرات، تیسری آپشن تھی ملٹری آپریشن اور چوتھی آپشن مذاکرات کے ساتھ ساتھ ملٹری آپریشن۔‘

انہوں نے کہا کہ پالیسی کی کا تیسرا حصہ انٹیلیجنس شیئرنگ کو بہتر بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ مسودہ حرفِ آخر نہیں ہے اور اراکین اپنی آرا اب بھی دے سکتے ہیں۔

انہوں نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ کوئی جماعت یہ نہیں کہہ سکتی کہ اس سے مشاورت نہیں کی گئی کیونکہ انہوں نے خود پارلیمانی لیڈران کو بریفنگ دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کا مسودہ ایک سو صفحوں پر مشتمل ہے۔

اسی بارے میں