قومی سلامتی پالیسی، حکومت ابہام کا شکار ہے: حزبِ اختلاف

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption حکومت کوئی فیصلہ نہیں کر سکی: خورشید شاہ

پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کی طرف سے بدھ کو قومی اسمبلی میں اعلان کردہ قومی سلامتی پالیسی پر حزب اختلاف کی جماعتوں نے اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ حکومت قومی سلامتی کے اہم معاملے پر ابہام کا شکار ہے اور اس کی حکمت عملی واضح نہیں ہے۔

پاکستان کی قومی اسمبلی میں ملک کی داخلی سکیورٹی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ نے پالیسی کے تین نکات بیان کیے وزیراعظم بھی ایوان میں آئے لیکن تربیلہ جانے کی جلدی میں وہ اپوزیشن کے سوالات کا کوئی تسلی بخش جواب نہ دے پائے۔

تاحال صورتحال یہ ہے کہ اپوزیشن ہی نہیں، حکومت کے اپنے اتحادی بھی ابہام کا شکار ہیں کہ آخر ملک کو دہشت گردی کے چنگل سے نکالنے کے لیے 100 صفحات پر مرتب دی گئی داخلی سکیورٹی پالیسی ہے کیا؟ اس وقت کون سی پالیسی چل رہی ہے، یہی چلتی رہے گی یا پھر حکومت اس میں تبدیلی چاہتی ہے؟

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے وزیر اعظم سے یہ تو کہا کہ ’ہم آپ کے ساتھ شانہ بشانہ پاکستان کی بقا اور سالمیت کی جنگ لڑنے کے لیے تیار ہیں، ہم کبھی بھی ایسا مطالبہ نہیں کریں گے جس سے ملک کی جمہوریت اور سالمیت کو نقصان پہنچے۔‘ تاہم اپوزیشن لیڈر نے مذاکراتی عمل اور پالیسی کے بارے میں اعتماد میں نہ لینے پر افسوس کا اظہار بھی کیا اور شکوہ و شکایت بھی کی۔

انھوں نے کہا کہ آج وزیر اعظم کی وضاحت سے لگتا ہے کہ حکومت ابہام کا شکار ہے: ’حکومت کوئی فیصلہ نہیں کر سکی۔‘

خورشید شاہ کا لہجہ تو دھیما تھا لیکن سوال سخت تھا۔ انھوں نے کہا کہ یقیناً کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو علی الاعلان نہیں کہی جا سکتیں، لیکن ہمیں اعتماد میں لے کر بتایا جانا چاہیے کہ آئندہ کے اہداف کیا ہیں: ’پارلیمانی لیڈروں کو بلائیں اور انھیں بتائیں کہ آپ کو کیا کرنا ہے، انھیں اعتماد میں لیں۔‘

اپوزیشن کے علاوہ حکومت کی اتحادی جماعت جمعیت علمائے السلام ف کے سربراہ فضل الرحمن نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ حکومت مذاکرات کے اتفاق رائے سے مطمئن نہیں شاید وہ کوئی نیا اتفاق رائے پیدا کرنا چاہتی ہے۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ’مذاکرات پر تو اتفاق رائے رہا ہے لیکن جنگ پر کبھی بھی نہیں رہا۔ مشرف کی پالیسی کبھی بھی متفقہ نہیں رہی، اگرچہ بعد کی حکومتوں نے اس پالیسی کو چلایا لیکن ملک کے اندر اس پر کوئی اتفاق نہیں رہا۔‘

ایم کیو ایم وہ واحد جماعت ہے جس کے بارے میں حکومت کا موقف ہے کہ داخلی پالیسی مرتب کرنے میں اس جماعت نے مشاورت اور تجاویز فراہم کیں لیکن ایم کیو ایم بھی داخلی پالیسی کے باے میں حکومتی اعلان پر مطمئن نہیں اور کارروائی کی تجویز دے رہی ہے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے راہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ وزیرداخلہ نے قوم کے ساتھ ایک بار پھر سنگین مذاق کیا ہے۔ انھوں نے کہا: ’اب وقت صرف زبانی جمع خرچ کا نہیں بلکہ کارروائی کا ہے، پہلے بھی مرض کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔‘

فاروق ستار نے کہا کہ غیر معمولی حالات ہیں غیر معمولی اقدامات کیے جائیں اور مذاکرات کے لیے ڈیڈ لائن دی جائے۔

انھوں نے کہا کہ ’جو بات چیت نہیں کرنا چاہتے (حکومت) ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے بار بار مذاکرات کی بات کر رہی ہے۔‘

قومی وطن پارٹی کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان نے بھی اپنے بیان میں داخلی سکیورٹی پالیسی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے حکومت نے کوئی جامع لائحہ عمل نہیں دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’حکومت کوئی حتمی راستہ نہیں بتانا چاہ رہی اب یہ معلوم نہیں کہ کیا وہ ارادتاً ایسا کر رہی ہے۔‘

سیکیورٹی پالیسی کے متعلق کچھ اسی قسم کے ردعمل کا اظہار پاکستان تحریک انصاف کی سیکرٹری اطلاعات شیریں مزاری نے کیا ۔ انھوں نے کہا کہ ’پہلی رکاوٹ تو یہ ہے کہ ہمیں پتہ ہی نہیں کہ پالیسی کیا ہے اور اس وقت کس پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔‘

شیریں مزاری نے کہا کہ حکومت کوئی حتمی راستہ نہیں بتانا چاہ رہی اب یہ معلوم نہیں کہ کیا وہ ارادتاً ایسا کر رہی ہے؟

چار سال کے لیے تشکیل دی جانے والی داخلی سکیورٹی پالیسی پر پیر کے روز بحث کا آغاز ہو گا۔ اراکین پارلیمان نے اگرچہ ابھی اس مسودے کو پڑھا نہیں اور بہت سے اراکین کا کہنا ہے کہ مسودے کی کاپی ابھی انھیں دی ہی نہیں گئی، تاہم پارلیمنٹ میں وزیراعظم اور وزیرداخلہ کی جانب سے اس پالیسی کے تعارف اور چند نکات سامنے آنے کے بعد وہ مایوسی کا اظہار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

ستمبر میں منعقد ہونے والے کل جماعتی اجلاس میں تو تمام جماعتوں نے حکومت کا ساتھ دینے کا اعلان کیا تھا لیکن اب جب مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہے اور فوج محدود پیمانے پر کارروائیاں کر رہی ہے ایسے میں حالات کس رخ پر جائیں گے اور پاکستان کے ایوان بالا اور زیریں میں موجود سیاسی جماعیتں کیا فیصلہ کریں گی۔ یہ شاید آنے والے چند دنوں میں واضح ہو جائے۔

اسی بارے میں