کراچی میں فائرنگ، شیعہ عالم ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کراچی میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر اب تک ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں مسلح افراد نے فائرنگ کر کے شیعہ عالم علامہ تقی ہادی نقوی کو ہلاک کر دیا ہے۔

کراچی پولیس کے ایس ایس پی سینٹرل مقدس حیدر نے بی بی سی کو بتایا کہ چار مسلح افراد نے ناظم آباد کے علاقے میں شیعہ عالم کو نشانہ بنایا۔

بی بی سی اردو کے عبداللہ فاروقی سے بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ تقی ہادی میٹرک بورڈ آفس میں ملازم تھے اور دفتر سے نکل کر رکشے میں بیٹھے ہی تھے کہ ان پر فائرنگ کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ چار حملہ آور دو موٹرسائیکلوں پر سوار تھے اور انھوں نے تقی ہادی کے سر میں گولیاں ماریں۔

مقدس حیدر کے مطابق اس واقعے کے بعد انھیں عباسی شہید ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ وہ زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے۔

پولیس افسر کے مطابق بظاہر یہ ٹارگٹ کلنگ کا معاملہ ہی لگ رہا ہے کیونکہ حملہ آوروں نے رکشہ ڈرائیور کو کچھ نہیں کہا۔

دریں اثنا کراچی کے ہی ایک اور علاقے سچل گوٹھ میں فائرنگ کے ایک واقعے میں ایک مذہبی مدرسے کا مہتمم اور ان کا بیٹا ہلاک ہوگیا۔

ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ دو موٹرسائیکلوں پر سوار چار مسلح افراد نے مدرسہ جامعہ عثمانیہ کے باہر موجود اس کے مہتمم قاری علی حسن اور ان کےبیٹے پر فائرنگ کی جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔

پولیس کے مطابق دیو بندی مکتبِ فکر کے پیروکار قاری علی حسن کا تعلق بلوچ قبیلے مینگل سے تھا۔

ایس ایس پی راؤ انوار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ کسی طور بھی فرقہ وارانہ نہیں ہے اور قاری علی حسن کو ایک دن پہلے دھمکی بھی دی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ قاری علی حسن اپنے مدرسے کے آگے موجود فٹ پاتھ پر دکانیں تعمیر کروا رہے تھے جس کی وجہ سے ان کی اس علاقے کے کچھ افراد سے چپقلش بھی تھی۔گزشتہ روز کچھ افراد نے انہیں اسی جگہ آ کر انہیں منع بھی کیا تھا اور دھمکی بھی دی تھی۔

راؤ انوار کے مطابق یہ واقعہ بھی انہیں زیرِ تعمیر دکانوں کے سامنے پیش آیا ہے۔ فائرنگ سے ایک راہگیر زخمی بھی ہوا جسے بعد ازاں ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

پولیس کے مطابق اس واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی اور مدرسے کے طالبِ علموں نے احتجاج شروع کردیا تھا ، تاہم حالات پر قابو پالیا گیا۔

اسی بارے میں