پاک ایران پائپ لائن: ’پاکستان کو مالی معاونت نہیں مل سکے گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption افغان حکام نے آگاہ کیا ہے کہ وہ 23 ایف سی اہلکاروں کی ہلاکت کی تحقیقات کر رہے ہیں: دفترِ خارجہ کی ترجمان

پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاک ایران گیس پائپ لائن پروجیکٹ کا معاہدہ اپنی جگہ قائم ہے لیکن ایران نے پاکستان کو آگاہ کیا تھا کہ وہ خود پر لگی پابندیوں کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ طے شدہ مالی معاونت فراہم نہیں کر سکتا۔

جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران دفترِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہا کہ اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ پابندیوں کی وجہ سے ایران اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر سکتا اور کوئی بھی دوسرا ادارہ یا کمپنی پروجیکٹ میں حصہ نہیں لے رہی اور ایران نے کچھ عرصہ قبل پاکستان کو اس بارے میں آگاہ بھی کیا تھا۔

’پاکستان کو امید ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر جاری مذاکراتی عمل کامیاب ہوگا اور ایران پر سے پابندیاں ختم ہو جائیں گی۔‘

دفترِ خارجہ کی ترجمان نے اپنے بیان میں ایک بار پھر سعودیہ کو شام کے باغیوں کے لیے ہتھیاروں کی فروخت کی خبر کی سختی سے تردید کی۔

انھوں نے ہتھیاروں کی فروخت کے بارے میں پالیسی گائیڈ لائنز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ہتھیاروں کی فروخت کے لیے ایک سرٹیفیکیٹ کی ضرورت ہوتی ہے جس میں یہ یقین دہانی کروائی جاتی ہے کہ اسے کیمیائی، حیاتیاتی اور جوہری ہتھیاروں میں استعمال نہیں کیا جائے گا، نہ ہی اسے دوبارہ فروخت کیا جا ئے گا، اور یہ بھی یقین دہانی کی جاتی ہے کہ اسے کسی تیسرے ملک کو پاکستان سے پیشگی اجازت کے بغیر فروخت بھی نہیں کیا جائے گا۔‘

دفتر خارجہ کی ترجمان نے اس خبر کی تصدیق کی کہ متحدہ عرب امارات میں قانونی طور پر مقیم چند پاکستانیوں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ انھوں نےکہا کہ پاکسانی سفارت خانے نے بتایا ہے کہ چند پاکستانیوں کو غیر کوئی وجہ بتائے متحدہ عرب امارات سے نکل جانے کا حکم دیا گیا ہے جو کہ سمجھ میں نہیں آ رہا، لیکن پاکستانی سفیر اپنے شہریوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

پاکستانی سرزمین پر وسط ایشیائی ریاستوں مثلاً چیچنیا اور ازبکستان سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں کی موجودگی کے بارے میں کیے جانے والے ایک سوال کے جواب میں دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ اگر کوئی ازبک باشندہ پاکستان کے شمالی وزیرستان میں میں ہلاک ہوتا ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا وہ فضائی راستے سے وہاں پہنچا تھا یا پھر وہ متعدد علاقوں سے گزر کر وہاں پہنچا؟

دفتر خارجہ کی ترجمان نے مزید بتایا کہ افغان حکام نے پاکستان کو آگاہ کیا ہے کہ وہ افعانستان کی سرزمین پر 23 ایف سی اہلکاروں کی ہلاکت کے معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں