پاکستان کے خفیہ اداروں کے لیے رابطہ کمیشن

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سابق سیکریٹری داخلہ تسنیم نورانی کے مطابق سب سے زیادہ وسائل آئی ایس آئی کے پاس ہیں

پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ملک کی 26 خفیہ ایجنسیوں کے درمیان رابطہ کاری بہتر کرنے کے لیے ایک مشترکہ کمیشن یا پلیٹ فارم قائم کیا جائے گا جو روزانہ کی بنیاد پر کام کرے گا۔

لیکن یہ 26 خفیہ ایجنسیاں کون سی ہیں اس کے بارے میں تفصیل نہیں بتائی گئی۔

پاکستانی میڈیا میں جب کسی مخصوص انٹیلی جنس ایجنسی کا نام نہ لینا ہو تو ایک عام سا لفظ استعمال کیا جاتا ہے، خفیہ ادارے یا حساس ادارے۔ یہ ایک پرانی عادت ہے جس کی کسی حد تک وجہ حب الوطنی بھی ہے۔

لیکن شاید ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ پاکستان میں اتنے زیادہ خفیہ ادارے ہیں کہ ان کی نشاندہی کرنا مشکل ہے۔

وزیرِ داخلہ چودھری نثار نے جمعرات کو گورنر ہاؤس پشاور میں کہا کہ ’اندرونی سلامتی کی پالیسی کے تحت ہم مشترکہ انٹیلی جنس ڈائریکٹریٹ قائم کرنے لگے ہیں جس میں 26 خفیہ ادارے معلومات کا تجزیہ بھی کریں گے اور تبادلہ بھی۔‘

قومی سلامتی پالیسی پر بحث جاری ہے، تاہم 26 کی گنتی پر کئی حلقوں میں حیرانی کا اظہار کیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی کی داخلہ امور سے متعلق کمیٹی کے ممبر اور رکنِ پارلیمان سردار نبیل احمد گبول ان میں سے ایک ہیں۔

’ہمارے لیے تو خود حیرت کا باعث بنا جب وزارتِ داخلہ نے بتایا کہ 26 خفیہ ادارے ہیں۔ ہمیں تو بڑے بڑے پانچ یا چھ نام معلوم ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ اس سے زیادہ پریشانی کی وجہ یہ ہے کہ اتنے اداروں کے باوجود ملک کے حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔

بی بی سی نے رکنِ پارلیمان، سابق سرکاری اہلکاروں اور تجزیہ کاروں سے بات کر کے اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کی کہ ملک میں کون کون سے ادارے ان 26 اداروں میں شامل ہیں۔

سابق سیکریٹری داخلہ تسنیم نورانی نے بتایا کہ وفاقی سطح پر تین ایجنسیاں کام کرتی ہیں، فوج کی انٹر سروسز انٹیلی جنس، جس کا بظاہر کام بیرونی خطرات کو روکنا ہے، ملٹری انٹیلی جنس جو فوج کے اندورنی معلومات دیکھتی ہے، اور سویلین خفیہ ادارہ انٹیلی جنس بیورو جو اندورنی معاملات پر معلومات اکٹھا کرتا ہے۔

’پولیس کا انٹیلی جنس ادارہ سپیشل برانچ ہے اور اس کی شاخیں ہر ضلعے میں ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ بحریہ اور فضائیہ کے الگ ادارے ہوتے ہیں اور فیلڈ انٹیلی جنس یونٹس الگ ہوتے ہیں۔ میرے خیال میں دو درجن سے زیادہ تو ہوں گے اور ہر ایک پاس مینڈیٹ ہوتا ہے کہ وہ آزادانہ طور پر کام کریں گے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ضروری نہیں ہے کہ صرف دہشت گردی کے بارے میں خفیہ معلومات جمع کی جائیں۔ سیاسی اور اقتصادی معلومات بھی جمع کی جاتی ہیں۔‘

سکیورٹی امور کے تجزیہ کار زاہد حسین کہتے ہیں کہ ان ایجنسیوں کی تعداد تو بہت ہے، لیکن دہشت گردی سے متعلق کام کرنے والے چار یا پانچ سے زیادہ نہیں ہیں۔

تسنیم نورانی کا کہنا ہے کہ ان اداروں کے درمیان ہمیشہ سے رابطہ کاری کی کمی ہی رہی ہے کیونکہ یہ سب خود مختار ادارے ہیں۔

’سب سے زیادہ وسائل آئی ایس آئی کے پاس ہیں اور سب سے کم شاید پولیس کی سپیشل برانچ کے پاس۔‘

زاہد حسین نے اس بات سے اتفاق کیا کہ ان اداروں کے درمیان معلومات کا تبادلہ کم ہی ہوتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس مسلے کی مثال لاپتہ افراد کے کیس میں بھی پائی جاتی ہے۔

’یہ واقعات بلوچستان میں بہت ہوئے کہ مختلف انٹیلی جنس ایجنسیاں لوگوں اٹھاتی ہیں۔ اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ان ایجنسیوں کے درمیان مخاصمت بھی ہوتی ہے کہ اگر ایک شخص ایک ادارے کے لیے کام کر رہا ہے تو دوسرا ادارہ اسے اٹھا لیتا ہے۔‘

تسنیم نورانی نے چودھری نثار کی تجویز کا خیر مقدم کیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان اداروں کے عملے کی کچھ فطرت ہوتی ہے اور کچھ ایسی تربیت ہوتی ہے کہ معلومات کا بتادلہ نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ بعض اداروں کی پالیسی بھی ہوتی ہے کہ وہ معلومات کو اپنے تک رکھتے ہیں۔

’اس سے پہلے بھی وزارتِ داخلہ میں کمیٹی ہوا کرتی تھی جس میں آئی ایس آئی کا نمائندہ آیا کرتا تھا۔ لیکن اب بات آگے بڑھ گئی ہے۔ اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ جتنے خفیہ فوجی ادارے ہیں وہ سویلین رابطہ کاروں کو زیادہ سے زیادہ معلومات فراہم کریں۔‘

زاہد حسین نے کہا کہ 11 ستمبر سنہ 2001 کے دہشت گرد حملوں کے بعد، امریکہ میں بھی تنازع چلا تھا کہ مختلف خفیہ اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری ہوتی تو یہ حملے روکے جا سکتے تھے۔

انھوں نے کہا کہ رابطہ کاری کے لیے ایک اور ادارہ، انسدادِ دہشت گردی کی قومی اتھارٹی ہے، جسے پیپلز پارٹی کی حکومت نے قائم کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’ایک خاندان کے 26 افراد کے درمیان رابطہ رکھنا مشکل ہوتا ہے تو ایجنسیوں کے درمیان کس طرح ہو گا؟‘

’انسدادِ دہشت گردی کی قومی اتھارٹی یعنی نیکٹا کو تو دس سال پہلے قائم کر لینا چاہیے تھا۔ اس کا کام رابطہ کاری اور تجزیہ تھا۔ تاہم اسے فعال نہیں ہونے دیا گیا۔‘

رکنِ پارلیمان نبیل گبول کا موقف ہے کہ اس وقت ملک میں فوری ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔

’وزیرِ داخلہ نے نیکٹا کے لیے حکومت سے دو ارب روپے مانگنے کا ذکر کیا ہے۔ اس کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کا بل منظور ہو گا۔ یہ تو پانچ سال کی منصوبہ بندی لگ رہی ہے۔ لیکن اس وقت ملک حالتِ جنگ میں ہے اور فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔‘

پاکستان کے خفیہ اداروں کی تعداد اب خفیہ نہیں رہی، تاہم ایک صحافی نے اس پر رائے دیتے ہوئے کہا کہ ایک خاندان کے 26 افراد کے درمیان رابطہ رکھنا مشکل ہوتا ہے تو ایجنسیوں کے درمیان کس طرح ہو گا؟

اسی بارے میں