ریکارڈ توڑ ہفتہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حال ہی میں لاہور میں سب سے بڑا انسانی پرچم بنانے کا عالمی ریکارڈ قائم کیا گیا تھا

اِس ہفتے پنجاب میں ایسے ایسے ریکارڈ توڑے گئے ہیں جن کے بارے میں عوام جانتے بھی نہیں تھے کہ کوئی ریکارڈ موجود ہے جِسے توڑنے کی جدوجہد کوئی نوجوان کر رہا ہے۔

دل پہ ہاتھ رکھ کر بتائیں کیا آپ کو پتہ تھا اِنسانی سر ایک منٹ میں کتنے اخروٹ توڑ سکتا ہے؟

کیا کبھی آپ نے سوچا تھا کہ کیلوں کا سینڈوچ کیسے بنتا ہے اور کِتنا بھاری ہو گا؟

کیا آپ نے کبھی صبح اُٹھتے ہی پشت پر 40 پاؤنڈ وزن باندھ کر ایک گھنٹے تک ڈنڈ لگائے ہیں، اُن کی گنتی کی ہے اور پھر سوچا ہے کہ ایک دن آپ پشت پر بوجھ لاد کر ڈنڈ لگانے والوں کے عالمی چیمپیئن بن جائیں گے؟

اِنسانی دماغ عجیب و غریب شے ہے کچھ بھی سوچ سکتا ہے، کچھ بھی کر سکتا ہے، لیکن آپ نے کبھی سوچا تھا کہ یہ ساری حرکتیں کرنے پر پنجاب حکومت آپ کا سواگت کرے گی، گنیز ورلڈ ریکارڈز کے گوروں اور گوریوں کو مدعو کرے گی جو اپ کے ڈنڈ گِنیں گے اور پھر آپ کو سرٹیفکیٹ عطا کریں گے۔

قوموں کے عروج و زوال میں شمشیر و سناں اوّل اور طاؤس و رباب آخر جیسے کھیلوں کا ذِکر تو ہم سب نے سُنا ہے لیکن یونانی تہذیب کے معماروں نے کبھی یہ خواب بھی نہیں دیکھا ہو گا کہ خِطہ پنجاب میں ایک ایسی تہذیب جنم لے گی جہاں سر سے اخروٹ توڑنے کو اِنسانی جمالیات کا مظہر سمجھا جائے گا۔

پنجاب حکومت کی ریکارڈ سازی سے رغبت کی دو ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں۔

پہلی یہ کہ ہم نے نوجوانوں کو صحت مندانہ کاموں پر لگا دیا ہے ۔ اِس بات میں وزن ہے کہ جب تک ہمارے نوجوان گلے نہ کاٹیں اور راکٹ لانچر لے کر پہاڑوں پہ نہ جا بیٹھیں، جو بھی کر لیں اُسے صحت مندانہ کام ہی سمجھا جائے گا۔

ذرا سی پریشانی کی بات یہ ہے کہ جو نوجوان اپنے سر سے ایک منٹ میں 163 اخروٹ توڑ سکتا ہے وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔ کل وہ اگر اخروٹ سے 163 سر توڑنے پر تل جائے تو ہم کیا کر لیں گے؟

دوسری وجہ یہ ہے کہ ہم ریکارڈ بنا کر اپنے ازلی دشمنوں کو سبق سکھا رہے ہیں۔ بنگلہ دیش نے چند ہزار بچوں کو اکٹھا کر کے جھنڈا بنایا ہم نے 50 ہزار نوجوانوں سے جھنڈا بنا کر بنگالیوں کی غداری بدلہ چکا دیا۔

ہندوستان میں کچھ باولوں نے وہ کیلوں کے سینڈوچ والا کام کیا تھا۔ ہم نے ہندوستان کو اُس کی اوقات یاد دلا دی اور برطانیہ اپنے آپ کو کیا سمجھتا ہے پشت پر 40 پاؤنڈ وزن باندھ کر پونے سات سو ڈنڈ کا عالمی ریکارڈ؟

Image caption سیو دی چلڈرن کی ایک رپورٹ کے مطابق پیدا ہونے کے ایک دن کے اندر مر جانے والے بچوں کا عالمی ریکارڈ پاکستان کے پاس ہے

ہمارے فوجی نے ایک گھنٹے میں اُتنا وزن اُٹھا کر اس سے دگنے ڈنڈ پیل دیے۔ اِسے کہتے ہیں ہم سا ہو تو سامنے آئے۔

پنجاب حکومت کو بھی یہ سوچنا چاہیے کہ ہمارے پاس کچھ بنے بنائے ریکارڈ بھی موجود ہیں جن کا تذکرہ کرتے ہوئے ہم شرماتے ہیں۔

اِسی ہفتے سیو دی چلڈرن کی ایک رپورٹ کے مطابق پیدا ہونے کے ایک دن کے اندر مر جانے والے بچوں کا عالمی ریکارڈ پاکستان کے پاس ہے۔ اگر وہی بچہ افغانستان، نائیجریا، صومالیہ یا گنی بساؤ میں پیدا ہو تو اُس کی زندگی کم از کم چند گھنٹے طویل ہو سکتی ہے۔

ہماری حکومت کو چاہیے کہ اِن اعداد و شمار پر بھی کچھ توجہ دے ورنہ ہم ریکارڈ بناتے رہ جائیں گے اور دنیا ہمارا ریکارڈ لگاتی رہے گی۔

اسی بارے میں