کراچی: فائرنگ کے واقعات میں تین افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption متحدہ قومی موومنٹ کا کہنا ہے کہ حامد اور خالد ان کے کارکن تھے

کراچی میں رینجرز کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور اس کی اہلیہ زخمی ہوگئی ہیں، جبکہ فائرنگ کے ایک اور واقعے میں متحدہ قومی موومنٹ کے دو کارکن ہلاک ہوگئے ہیں۔

ناگن چورنگی میں رینجرز کی فائرنگ سے جمعے کی سہ پہر ایک شخص ذیشان الدین ہلاک اور ان کی اہلیہ شافعہ زخمی ہوگئیں۔

ڈی آئی جی جاوید اوڈھو نے اس واقعے کو اتفاقی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ناگن چورنگی میں میاں بیوی الجھ رہے تھے، رینجرز کی چوکی سے ایسا منظر نظر آ رہا تھا جیسے خاتون کو لوٹا جا رہا ہے جس پر رینجرز اہلکار نے فائرنگ کر دی، جس سے ایک شخص ہلاک ہوگیا۔ اہم حقائق کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

رینجرز ترجمان نے ایک وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ نانگن چورنگی چوکی پر تعینات اہلکاروں کی توجہ کچھ لوگوں نے ایک شخص کی طرف مبذول کرائی جو ایک خاتون کو اغوا کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

ترجمان کے مطابق صورتحال پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ہوائی فائرنگ کی گئی لیکن اس کے باجود وہ شخص خاتون سے الجھا رہا جس کے نتیجے میں اہل کار نے شخص کوگرفتار کرنے کے لیے فائر کرکے زخمی کر دیا جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لاکر فوت ہوگیا۔ رینجرز ترجمان کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہے۔

زخمی مسمات صفیہ کا کہنا ہے کہ ایک ماہ پہلے ہی ان کی پسند کی شادی ہوئی تھی لیکن بائیس روز بعد علیحدگی ہوگئی۔ ان کا شوہر ذیشان انہیں مسلسل تنگ کر رہا تھا۔ انہوں نے کہا ذیشان کے کہنے پر ان سے ملنے آئیں تو اس نے تشدد کیا اسی دوران رینجرز نے فائرنگ کی اور وہ بھی زخمی ہوگئیں۔

واقعے کے بعد مشتعل افراد نے ہنگامہ آرائی اور پتھراؤ کیا ہے، لوگوں نے رینجرز کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور کردیا۔

یاد رہے کہ گذشتہ تین سالوں میں رینجرز کی سر عام فائرنگ میں یہ چوتھی ہلاکت ہے۔ اس سے پہلے 30 مئی 2011 کو بےنظیر شہید پارک میں سرفراز شاہ نامی نوجوان کو ہلاک کیا گیا تھا۔ جس کے بعد گلستان جوہر میں ایک ٹیکسی ڈرائیور اور شاہراہِ فیصل پر ایک نوجوان کو گاڑی نہ روکنے پر فائرنگ کر کے مار دیا گیا۔

اس سے پہلے دوسرا واقعہ دوپہر ڈھائی بجے کے قریب ناظم آباد گول مارکیٹ کے قریب پیش آیا۔ پولیس کے مطابق موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے جامع مسجد گول مارکیٹ کے باہر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں حامد اور خالد نامی دو افراد ہلک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس کے مطابق دونوں جمعے کی نماز کی ادائیگی کے بعد مسجد سے باہر آئے تھے کہ انہیں نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کا کہنا ہے کہ حامد اور خالد ان کے کارکن تھے، جن کا تعلق ناظم آباد سیکٹر سے تھا۔

دریں اثنا گلبہار سینٹر میں ٹائیلوں کی ایک دکان پر فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ رضویہ پولیس کے مطابق موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد کی فائرنگ میں عمران اور منظر علی زخمی ہوگئے، جو دیوبند مکتبِ فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔

عباسی شہید ہپستال کےشعبۂ حادثات کے مطابق منظر علی دورانِ علاج زخموں کی تاب نہ لا کر ہلاک ہوگئے، جبکہ عمران کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

اسی بارے میں