حکومتی قرضوں میں ریکارڈ اضافہ: سٹیٹ بینک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حکومت کو مالیاتی شعبوں اور توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات کو تیز کرنا ہو گا: مرکزی بینک

پاکستان کی معیشت نے رواں مالی سال کے پہلی سہ ماہی میں پانچ فیصد کی شرح سے ترقی کی ہے جبکہ مالی سال 2014 میں معیشت کی ترقی کا ہدف چار اعشاریہ چار فیصد مقرر کیا گیا ہے۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے مالی سال 2014 کی پہلی سہ ماہی میں معیشت کی جائزہ رپورٹ جاری کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران صنعتوں اور خدمات کے شعبوں میں ترقی ہوئی جبکہ زراعت کے شعبے کی کارکردگی مطلوبہ ہدف سے کم تھی۔

جائزہ رپورٹ کے مطابق مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران قرضوں کی ادائیگیوں کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر دباؤ کا شکار رہے اور حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہی۔

رپورٹ کے مطابق یہی وجہ ہے کہ مالی سال کے پہلے تین ماہ کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم نہیں ہوئے اور ان میں ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی کمی ہوئی ہے۔

سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور اتحادی سپورٹ فنڈ کے تحت ملنے والی رقم میں تاخیر کی وجہ سے ملکی کرنسی دباؤ کا شکار رہی اور پہلی سہ ماہی کے دوران ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں چھ فیصد کمی ہوئی ہے۔

سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب قرضے میں ریکارڈ اضافہ ہوا اور صرف پہلی سہ ماہی کے دوران حکومت نے 10 کھرب روپے کے قرضے لیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پہلی سہ ماہی میں مالیاتی خسارہ خام ملکی پیداوار کا ایک اعشاریہ ایک فیصد رہا۔

سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ پہلی سہ ماہی کے دوران ملک میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ pa
Image caption پاکستان کی کرنسی کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں چھ فیصد کمی ہوئی

ملک میں مہنگائی کی شرح آٹھ اعشاریہ ایک فیصد رہی جبکہ گذشتہ سہ ماہی میں مہنگائی کی شرح تقریباً میں چھ فیصد تھی۔

رپورٹ کے مطابق یکم جولائی سے 30 ستمبر تک بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر کی مد میں نو فیصد اضافہ ہوا ہے۔

سٹیٹ بینک نے اپنی رپورٹ میں حکومت کو تجویز کیا ہے کہ آئندہ مالی سال میں معاشی شرح رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت کو مالیاتی شعبوں اور توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات کو تیز کرنا ہو گا۔

پاکستان کی نئی حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ سے رجوع کیا جس کے بعد آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے چھ ارب 70 کروڑ ڈالر کے قرض کی منظوری دی تھی۔

اسی بارے میں