طالبان کا جنگ بندی کا اعلان، مستقبل کیا ہوگا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے ایک مہینے کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا ہے

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے جنگ بندی کا اعلان تو کر دیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ فقط ایک ماہ کے لیے شدت پسندی کی کاروائیاں بند کرنےکا یہ نعرہ کیا واقعی امن کا پیغام ہے، کسی دباؤ کا نتیجہ ہے یا پھر وقت حاصل کر کے منظم ہونے کی کوشش؟

سابق فوجی افسر جنرل (ر) عبدالقیوم کہتے ہیں کہ خواہ ایک مہینے کے لیے ہی جنگ بندی ہو، ہے تو خوش آئند بات لیکن اس حوالے سے طالبان کی تاریخ بہت داغدار ہے اور لگتا ہے کہ طالبان مجبور ہوگئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ 2014 ایک اہم سال ہے کیونکہ بیرونی فوجوں کا افغانستان سے انخلا ہوگا اور وہاں سے طالبان کو ملنے والی مدد ختم ہو جائے گی۔ ’حکومت پاکستان پر بھی عوامی دباؤ ہے کہ وہ ان کے خلاف سخت کارروائی کرےاور یہی طالبان کو دیوار پر لکھا نظر آرہا تھا۔‘

تجزیہ نگار سلیم صافی نے کہا کہ یہ خبر اچھی ہے تاہم اب بہتر ہوگا کہ ریاست پاکستان کے ادارے براہ راست طالبان مذاکرات کریں اور مذاکراتی کمیٹیاں تحلیل کر دی جائیں۔

’نیٹو افواج کی واپسی کے بعد دوست اور دشمن بدلتے نظر آرہے ہیں۔ طالبان بھی جانتے ہیں کہ انہیں وکٹوں پر کھیلنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ یا پھر ہو سکتا ہے کہ افغان طالبان نے پاکستانی طالبان پر دباؤ ڈالا ہو۔‘

سابق سیکرٹری فاٹا محمود شاہ کا موقف ہے کہ ’شدت پسندوں کی کاروائیاں پاکستان کے آئین و قانون کے خلاف ہیں یہ ایک ماہ تک گناہ کبیرہ کو روکنا چاہتے ہیں تو ان کی مرضی لیکن بات چیت مسئلے کا حل نہیں یہ دہشت گردی نہیں چھوڑیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ’ریاست پاکستان کے ادارے براہ راست طالبان سے مذاکرات کریں اور مذاکراتی کمیٹیاں تحلیل کر دی جائیں۔‘ صحافی سلیم صافی

وہ کہتے ہیں ’طالبان اب بھاگ رہے ہیں اس لیے اب وہ مزید مہلت لینا چاہ رہے ہیں۔‘

طالبان سے مذاکرات کرنے والی حکومتی کمیٹی کے رکن رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ طالبان نے ایک ماہ کی جنگ بندی کر کے شاید حکومت کو آزمانا چاہ رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ صرف عارضی جنگ بندی ہوئی ہے اگر حکومت نے بھی مثبت جواب دیا تو شاید جنگ بندی میں توسیع ہو جائے۔ ’پاکستان کی فضائیہ اور آرمی جیٹ طیاروں اور گن شپ ہیلی کاپٹڑوں کی مدد سے کارروائی کر رہی تھی، طالبان چاہیں گے ان یہ حملے روک دیے جائیں۔‘

سیاسی تجزیہ نگار نزیر ناجی کہتے ہیں کہ ’معاملہ ہے پیچیدہ اور منظر اتنا بھی خوشگوار نہیں، مذاکرات کا ایجنڈا ہی بن جائے تو بڑی بات ہے اتنے وقت میں سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔‘

’اس مسئلے کی جڑیں صرف پاکستان تک محدود نہیں، پاکستان اپنے آئین اور قانون سے باہر نکل نہیں سکتا اور طالبان اسے مانتے نہیں ہیں۔ جنگ سے تب ہی نکلا جا سکتا ہے جب دونوں فریق ایک ہی سسٹم کو مانیں اور اس کے مطابق چلیں۔‘

کیا پاکستانی ریاست بھی جنگ بندی کرے گی؟

برگیڈئیر محمود شاہ کہتے ہیں کہ حکومت نے طالبان سے یک طرفہ جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا، ایسے میں پاکستانی فوج کو چاہیے کہ وہ زمینی کارروائی کے آغاز تک فضائی کارروائیاں اُسی طرح جاری رکھے، اور وزیراعظم کو بھی اس بات کو سمجھنا چاہیے۔

سابق سیکرٹری فاٹا محمود شاہ نے بتایا کہ ’پاکستانی فوج نے ماضی میں قبائل یا طالبان کے ساتھ ہونے والے معاہدوں میں کبھی بھی جنگ بندی نہیں کی ہاں البتہ 2006 میں ہونے والے ایک معاہدے میں چند جگہوں سے چیک پوسٹیں ختم کر دی گئیں تھیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ماضی میں طالبان اور قبائل کے ساتھ فوج اور آئی ایس آئی نے جو بھی معاہدے کیے وہ ناکام ہوئے۔

نزیر ناجی کہتے ہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں اتنے فوجی جرنلز اور افسران جنگوں میں شہید نہیں ہوئے جتنے دہشت گردی کی کاروائیوں میں ہوئے۔ ’فوج کو جو زخم لگے ہوئے ہیں وہ زیادہ عرصے تک مذاکرات نہیں چاہے گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستانی فوج نے ماضی میں قبائل یا طالبان کے ساتھ ہونے والے معاہدوں میں کبھی بھی جنگ بندی نہیں کی۔ سابق سیکرٹری فاٹا محمود شاہ

جنرل (ر) عبدالقیوم نے فوج کی جانب سے جنگ بندی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے اس کی توجیہہ کچھ یوں بیان کی ’طالبان نے کہا ہے کہ وہ جنگ بندی کریں گے لیکن ہمیں کامل یقین ہے کہ دہشت گردی کی یہ کاروائیاں پورے ملک میں جاری رہیں گی کیونکہ یہ ایک اکیلا گروپ نہیں۔ طالبان کو یہ گارنٹی نہیں دی جا سکتی کہ جو لوگ شدت پسندی کی کارروائیاں کریں گے ان کے خلاف ایکشن نہیں ہوگا۔‘ تاہم انھوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کا نظام پاکستان کے دیگر علاقوں سے مختلف ہے۔

جنرل عبدالقیوم نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ سیزفائر نہیں کیونکہ یہ دو ریاستوں کے مابین مقابلہ نہیں ’دہشت گرد اور ریاست میں فرق ہوتا ہے۔‘

ایک ماہ کی جنگ بندی کی شروعات ہو چکی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ دور پُرامن ہوگا، بات چیت آگے بڑھے گی یا پھر مذاکرات کے تعطل کی طرح حالات پھر بند گلی کی جانب مڑ جائیں گے؟

اسی بارے میں