’فیصلوں کا اختیار حکومت کے پاس ہے، براہِ راست مذاکرات کرے‘

تصویر کے کاپی رائٹ PID

حکومتِ پاکستان کی کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ امن مذاکرات کی کمیٹی کے رکن میجر عامر کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے فائر بندی کے بعد حکومت کو براہ راست طالبان اور ان کی مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کرنے چاہیئں۔

میجر عامر نے یہ بات کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے ایک ماہ کی فائر بندی کے اعلان کے بعد بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہی۔

میجر عامر نے کہا ’اب فیصلوں کا وقت آ گیا ہے اور فیصلوں کا اختیار حکومت کو ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ اس عمل میں فوج کے علاوہ صوبہ خیبر پختونخوا کے گورنر، وزیر اعلیٰ اور وفاقی وزیر داخلہ کو ملوث کرنے کی ضرورت ہے۔

میجر عامر نے کہا ’حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی حیثیت غیر ریاستی عناصر کی ہے۔ اس لیے اس مذاکراتی کمیٹی کی افادیت نہیں رہی ہے اور حکومت براہ راست طالبان کے ساتھ مذاکرات کرے۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حکومتی مذاکراتی ٹیم کے رکن میجر عامر نے کہا کہ ان کی ذمہ داریوں میں طالبان کو مذاکراتی ٹیبل پر لانا اور جنگ بندی کرانا تھی۔

انہوں نے مزید کہا ’ان دو ذمہ داریوں کے علاوہ جب پچھلے دنوں طالبان کے ساتھ مذاکرات میں رکاوٹیں پیش آ رہی تھیں تو میں نےطالبان کے ساتھ بیک ڈور روابط یعنی بلا واسطہ روابط رکھے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ان بلا واسطہ روابط میں مولانا سمیع الحق کی جماعت کے یوسف شاہ کے ساتھ ساتھ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان بھی شامل تھے۔

انہوں نے مزید کہا ’چار مرتبہ میری طالبان کے ساتھ براہ راست بات چیت ہوئی ہے اور کچھ روز قبل طالبان نے مجھے اپنے فائر بندی کے فیصلے سے آگاہ کیا تھا اور کہا تھا کہ باضابطہ منظوری کے لیے یہ فیصلہ تحریک طالبان کے سربراہ (ملا فضل اللہ) کو بھجوا دیا ہے۔‘

میجر عامر کا کہنا تھا کہ اب حکومت طالبان سے مذاکرات کرے کیونکہ ان حساس معاملات پر بات چیت ہو گی۔

یہ کمیٹی اگر ختم نہیں کرنی تو یہ کمیٹی مددگار کے طور پر کام کر سکتی ہے۔ لیکن حساس معاملات میں فیصلہ کرنے کا اختیار یا تو حکومت کے پاس ہے یا فوج کے۔‘

انہوں نے کہا کہ ان حساس معاملات میں قیدیوں کی رہائی، غیر ملکی قیدی وغیرہ جیسے معاملات شامل ہیں۔ ’بہتر یہ ہو گا کہ اب یہ بات چیت میڈیا سے دور رہ کر کیے جائیں۔‘

واضح رہے کہ ہفتے کے روز کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ ملک کے اکابرین، علماء کرام کی اپیل، طالبان کمیٹی کے احترام اور اسلام اور ملک کے مفاد میں ایک مہینے کے لیے جنگ بندی کا اعلان کرتے ہیں۔

اعلان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’تحریک طالبان کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے اپنے تمام حلقہ جات اور مجموعات کو ہدایت جاری کی جاتی ہے کہ تحریک طالبان کی طرف سے حکومت کے ساتھ جنگ بندی کے اعلامیے کا احترام کرتے ہوئے اس کی مکمل پاسداری کریں اور اس دوران ہر قسم کی جہادی کاروائیوں سے گریز کریں۔‘

اسی بارے میں