بندر سے استرا کون چھینے؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

جرمن ماہِرِ عمرانیات میکس ویبر کے مطابق کسی بھی ریاست کا وجود مضبوطی سے صرف اس وقت تک قائم رہ سکتا ہے جب طاقت کے استعمال کا اختیار صرف اور صرف اس کے پاس رہے اور ریاست کی حدود میں موجود نسلی، لسانی اور نظریاتی گروہوں کی اکثریت اس سے برضا و رغبت وفادار رہے اور اپنے انفرادی و اجتماعی وجود کے تحفظ کے لیے ریاست سے ہٹ کر کسی اور جانب نہ دیکھے۔

یوں سمجھ لیجیے کہ جس طرح ایک میان میں دو تلواریں یا ایک خاتون کے دو شوہر نہیں ہوتے اسی طرح ایک ریاست کے بنیادی اختیار کے دو جائز مالک نہیں ہو سکتے۔ کسی ایک کو ماننا یا جانا پڑے گا۔ بصورتِ دیگر تشدد اپنی زبان، اختیار، دائرہ، ثقافت اور لفظیات ساتھ لائے گا اور سب سے اپنی مرضی کی املا لکھوائے گا۔

جس طرح انسان بیمار و صحت یاب ہوتا ہے اسی طرح ریاستیں بھی بیمار و صحت مند ہوتی ہیں۔ انسان بیماری کی بروقت تشخیص یا علاج نہ کرے تو ناکارہ، مفلوج یا مرحوم ہوسکتا ہے۔ یہی کلیہ انسانوں کی بنائی ریاست پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

جیسے انسان کو سر درد، بخار، نزلہ، کھانسی، ٹی بی، ایڈز اور کینسر وغیرہ لاحق ہوجاتا ہے، اسی طرح کوئی بھی اچھی بھلی ریاست کسی بیرونی وائرس، اندرونی جرثومے، ناانصافی کے بخار، اقتصادی کھانسی، نظریاتی ٹی بی، شدت پسندی کی ایڈز اور غربت کے کینسر میں مبتلا ہوسکتی ہے۔

جیسے کوئی انسان اپنی بیماری ٹالتا رہتا ہے، کوئی آدھا علاج کروا کے اکتا جاتا ہے، کوئی دوا ہوتے ہوئے بھی وقت پر دوا لینا بھول جاتا ہے، کوئی مکمل علاج پر یقین رکھتا ہے، بالکل یہی کچھ ریاستیں بھی اپنے ساتھ کرتی ہیں۔

بس ایک فرق ہے۔ انسان کو اپنا ڈاکٹر خود بننے کے بجائے کسی معقول طبی ماہر سے مشورہ لینا چاہیے۔ مگر ریاست وہ مریض ہے جو اپنی تشخیص و علاج بیرونی معالج کے مقابلے میں زیادہ بہتر انداز میں کر سکتی ہے۔

جیسے برطانیہ نے آئی آر اے کے معاملے میں اپنا علاج خود کیا۔ جیسے کینیڈا نے کوبیک کے علیحدگی بخار کو کم کرنے کے لیے ریفرینڈم کی گولیوں کا سہارا لیا۔ جیسے چیکو سلواکیہ کی ریاست نے خود ہی کامیاب سرجری کر کے چیک اور سلوواک کے جڑے ہوئے سروں کو بخوبی علیحدہ کر لیا۔

جیسے سوویت یونین نے ایک دن تمام بچوں کو بٹھا کر حساب کتاب کیا، ریاستی ترکہ تقسیم کیا اور پھر سرد جنگ کے سورج کی برف پگھل گئی۔ جیسے اہلِ لبنان کو 15 برس کی سر پھٹول کے بعد احساس ہوا کہ باہمی مرہم پٹی نہ کی گئی تو پورے جسم میں خانہ جنگ زہر پھیل جائے گا اور پھر کوئی بیرونی سرجن آ کر اپنے حساب سے چیر پھاڑ کردے گا۔

جیسے فلسطین کو بنیادی علاج فراہم کرنے کے بجائے نسلی قرنطینہ میں مسلسل منافقانہ ادویات پر رکھا جا رہا ہے۔ جیسے شام نے اپنا گلا کاٹنے کی کوشش کی مگر اسے آپریشن تھیٹر میں لے جانے کے بجائے اس پر جھگڑا ہے کہ یہ دم درود سے ٹھیک ہوگا، اس کے لیے سفارتی سرجری بہتر رہے گی یا کسی معقول اسپیشلسٹ کے میّسر آنے تک اسے ویسے ہی عالمی خیراتی ہسپتال کی سیڑھیوں پر تڑپنے دیا جائے۔

جیسے سری لنکا کی ٹائیگر زدہ ریاست، جنوبی امریکہ کی کوکین زدہ ریاست کولمبیا اور شائننگ پاتھ نامی مارکسسٹ طالبان کی ڈسی ریاست پیرو بیس برس تک سردرد کی گولیاں کھا کر اس نتیجے پر پہنچی کہ میجر سرجری کے بغیر بات نہیں بنے گی۔

جیسے بھکاری صومالیہ نہ تو اپنا علاج کر پایا اور نہ کوئی ڈھنگ کا بیرونی معالج میسر آیا اور وہ بے حس آپریشن ٹیبل پر خود مرگیا۔ اب صومالیہ کی بچی لاش کو دوبارہ مغربی آکسیجن ٹینٹ میں رکھ کے اس میں سانس پھونکنے کی مشق ہورہی ہے۔

جس طرح کچھ لا وارث مریض نوآموز ڈاکٹروں کی مشق کے کام آجاتے ہیں اسی طرح بعض ریاستوں کو بھی لاوارث سمجھ کے ان پر ہر طرح کا نوسیکھیا اپنے کچے پکے ہاتھ پختہ کرتا ہے۔ جیسے ہر ایرا غیرا چھٹ بھئیا عطائی پچھلے 35 برس سے افغانستان کے ساتھ کر رہا ہے۔

بعض مریض خود ترسی کے نفسیاتی نشے میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح بعض ریاستیں بھی اپنے بلیڈ سے خود کو زخم لگا کے خود لذتی میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔

پاکستانی ریاست نے بہت سال پہلے کچھ اپنوں اور پھر غیروں کی طبیعت صاف کرنے کے لیے اپنے دوستوں کی مدد سے شدت پسندی کے فرینچائز استرے تیار کیے اور جوش میں ضرورت سے کچھ زیادہ ہی تیار کر لیے اور پھر یہ استرے اپنے ہاتھ کے سدھائے بندروں میں بانٹ دیے۔

جب ریاست نے انہیں دوبارہ پنجرے میں بند کرنا چاہا تو انہوں نے دانت نکوس دیے۔ اب ریاست آگے آگے ہے اور اضافی استرے سیدھے کیے خوخیاتے بندر پیچھے پیچھے۔ بندروں سے استرے واپس لینا تو بہت دور کی بات ہے۔ ریاست کو یہ تک سجھائی نہیں دے رہا کہ وہ کس پیڑ پر چڑھے اور کس شاخ سے جھول جائے اور پھر نیچے کیسے اترے اور کہاں اترے ۔۔۔۔۔

اسی بارے میں