حکومت کا طالبان کے خلاف فضائی کارروائی معطل کرنے کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ حکومت نے اب تک کوئی بلاجواز آپریشن نہیں کیا ہے

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے ایک ماہ کی جنگ بندی کے جواب میں حکومتِ پاکستان نے طالبان کے خلاف جاری فضائی کارروائی معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وفاقی وزیرداخلہ نے اپنے ایک بیان میں طالبان کی جانب سے ایک ماہ تک جنگ بندی کے اعلان کو مثبت قرار دیتے ہوئے حکومت کی جانب سے بھی جنگ بندی کا اعلان کردیا گیا ہے۔

وزیرداخلہ کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سےجنگ بندی کے بعد فضائی کارروائیاں معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے بیان میں کہا ’حکومت نے نہ تو باقاعدہ آپریشن کیا اور نہ ہی بلاجواز کارروائی کی۔‘

انہوں نے واضح کیا ہے کہ اگر طالبان کی جانب سے کوئی حملہ کیا گیا تو اس کے جواب میں بھرپور کارروائی کی جائے گی۔

یاد رہے کہ سنیچر کو طالبان کی جانب سے بھی ایک ماہ کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا کہ وہ ملک کے اکابرین، علماء کرام کی اپیل، طالبان کمیٹی کے احترام اور اسلام اور ملک کے مفاد میں ایک مہینے کے لیے جنگ بندی کا اعلان کرتے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ طالبان نے نیک مقاصد اور سنجیدگی سے مذاکرات کا آغاز کیا ہے۔

دریں اثناء تحریک طالبان پاکستان مہمند ایجنسی کے رہنما عمر خراسانی نے بھی ایک بیان میں فائر بندی کے فیصلے کی توثیق کی تھی۔

واضح رہے کہ حکومتِ پاکستان کی کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ امن مذاکرات کی کمیٹی کے رکن میجر عامر نے ہفتے کو کہا تھا کہ طالبان کی جانب سے فائر بندی کے بعد حکومت کو براہ راست طالبان اور ان کی مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کرنے چاہیئں۔

یجر عامر نے کہا ’اب فیصلوں کا وقت آ گیا ہے اور فیصلوں کا اختیار حکومت کو ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ اس عمل میں فوج کے علاوہ صوبہ خیبر پختونخوا کے گورنر، وزیر اعلیٰ اور وفاقی وزیر داخلہ کو ملوث کرنے کی ضرورت ہے۔

میجر عامر نے کہا ’حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی حیثیت غیر ریاستی عناصر کی ہے۔ اس لیے اس مذاکراتی کمیٹی کی افادیت نہیں رہی ہے اور حکومت براہ راست طالبان کے ساتھ مذاکرات کرے۔‘

اسی بارے میں