اسلام آباد میں فائرنگ، خودکش دھماکوں میں سیشن جج سمیت 11 ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption آئی جی اسلام آباد نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خودکش حملہ آوروں کی تعداد دو تھی

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں فائرنگ اور خودکش دھماکوں کے نتیجے میں ایڈیشنل سیشن جج رفاقت احمد اعوان سمیت 11 افراد ہلاک اور 25 زخمی ہوئے ہیں۔

یہ واقعہ پیر کی صبح ساڑھے آٹھ بجے کے قریب اسلام آباد کے سیکٹر ایف ایٹ مرکز میں واقع عدالتی کمپلیکس میں پیش آیا۔

آئی جی اسلام آباد نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خودکش حملہ آوروں کی تعداد دو تھی تاہم عینی شاہدین نے کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی تعداد زیادہ تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’حملہ آوروں نے اندر داخل ہو کر فائرنگ کی اور پولیس اہلکاروں پر ایک گرینیڈ پھینکا۔ اس کے بعد مارگلہ پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او پہنچے تو حملہ آوروں نے ان پر بھی گرینیڈ پھینکا لیکن وہ پھٹا نہیں۔‘

آئی جی اسلام آباد نے مزید کہا کہ اس کے بعد ایک حملہ آور نے اپنے آپ کو وکلا کے چیمبرز کے قریب اور دوسرے نے ایڈیشنل سیشن جج رفاقت اعوان کے چیمبر کے قریب دھماکے سے اڑا دیا۔

دریں اثناء چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے ایف ایٹ کچہری میں ہونے والے خود کش حملوں پر از خود نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری داخلہ، اسلام آباد کے چیف کمشنر اور پولیس کے سربراہ کو منگل کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

چیف جسٹس نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ سے ضلع کچہری میں ہونے والے واقع سے متعلق جامع رپورٹ بھی طلب کرلی ہے اس کے علاوہ پولیس کے سربراہ سے اُن پولیس اہلکاروں کی فہرست بھی طلب کرلی ہے جنہیں ضلع کچہری میں تعینات کیا گیا تھا۔

چیف جسٹس نے تین روز کے اندر چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریوں سے اُن انتظامات سے متعلق رپورٹ طلب کرلی ہے جو اُنھوں نے اپنے اپنے صوبوں میں واقع ضلعی عدالتوں میں کیے ہیں۔

قبل ازیں ایک عینی شاہد نے نجی ٹی وی چینل جیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’دو نوجوان کلاشنکوف سے لیس کچہری میں پہنچے اور عدالت کے باہر فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ کا سلسلہ دس منٹ تک جاری رہا۔‘

اس واقعے کے بعد پولیس کی ایلیٹ فورس اور رینجرز نے کچہری کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

موقعے پر موجود ایس ایس پی آپریشنز ڈاکٹر رضوان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انسدادِ دہشت گردی فورس کے دستے اس کمپلیکس کو ’کلیئر‘ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس واقعے کے بعد امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں اور زخمیوں اور لاشوں کو پمز ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

پمز کی ترجمان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے فائرنگ اور دھماکوں کے نتیجے میں 11 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

پمز کے اعلیٰ افسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے بھی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ہلاک شدگان اور زخمیوں میں سے بیشتر وکلا ہیں اور زخمیوں میں سے ایک کی حالت نازک ہے جسے انتہائی نگہداشت کے وارڈ منتقل کر دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر زخمیوں کو سینے میں گولیاں لگی ہیں جبکہ کچھ لوگوں کی ٹانگوں پر زخم آئے ہیں۔

واضح رہے کہ کچہری ایف ایٹ سیکٹر کے مرکز میں واقع ہے۔ چند سال قبل اسلام آباد سمیت ملک بھر میں حملوں میں اضافے کے باعث عدالتوں کے چاروں جانب دیوار کھڑی کی گئی تھی۔

کچہری میں داخل ہونے کے چار سے زیادہ راستے ہیں۔ دیوار کے حصار میں داخل ہونے پر وال تھرو گیٹ نصب ہیں۔ تاہم سکیورٹی کچھ زیادہ سخت نہیں ہوتی۔

اسی کچہری کے اندر نادرا کا دفتر بھی واقع ہے۔

اسی بارے میں