’اللہ اکبر کے نعروں کی آواز آئی تو میں چیمبر سے نکل آیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’شور و غل تھا اور سب لوگ اپنی جان بچانے کی کوشش کر رہے تھے جن میں وکلا اور موکل دونوں شامل تھے‘

اسلام آباد کچہری میں فائرنگ اور خودکش دھماکوں کے نتیجے میں ایڈیشنل سیشن جج رفاقت احمد اعوان سمیت 11 افراد ہلاک اور 25 زخمی ہوئے ہیں۔

اس حملے کے بارے میں عینی شاہدین نے بی بی سی سے بات کی۔

طارق عزیز ایڈووکیٹ

Image caption ’لوگ ایک ایک کر کے نکل رہے تھے اور ان پر فائرنگ بھی ہو رہی تھی‘

آٹھ سے دس لینڈ کروزریں تھیں، اور گیارہ سے بارہ لوگ تھے۔ ان سب کے پاس اسلحہ تھا۔ انہوں نے مختلف اطراف سے حملے کیے۔ پھر وہ کینٹین کے اندر آ گئے اور وہاں موجود لوگوں کو ایک ایک کر کے مارنا شروع کر دیا۔ آخر میں انہوں نے دستی بم پھینک دیا۔ پولیس اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا مگر پولیس ان کو کنٹرول نہیں کر پائی۔

شور و غل تھا اور سب لوگ اپنی جان بچانے کی کوشش کر رہے تھے جن میں وکلا اور موکل دونوں شامل تھے۔ جب دھماکے ہوئے تو کینٹین کے شیشے ٹوٹ گئے اور جب حملہ آور نکل گئے تو لوگ مزید شیشے توڑ کر بھاگنے کی کوشش کرنے لگے۔ وہاں چاروں طرف گیٹ ہیں، اس لیے چاروں طرف لوگ باہر نکل رہے تھے۔ لیکن فرار ہونے والے لوگوں کا جھمگٹا ہو گیا توگیٹ بند ہو گیا۔ لوگ ایک ایک کر کے نکل رہے تھے اور ان پر فائرنگ بھی ہو رہی تھی۔

کورٹ کے ریڈر

ایک کورٹ کے ریڈر کے ساتھ میری بات ہوئی جو ہلاک ہونے والے ایڈیشنل جج رفاقت علی صاحب کے چیمبر کے ساتھ تھے۔ انہوں نے بتایا کہ جب فائرنگ شروع ہوئی تو میں انہیں کے چیبمر سے نکلا کیونکہ اللہ اکبر کے نعروں کی آواز آئی تھی۔ ان کے بیان کے مطابق اس نعرے کے بعد ان کو بچانے کے بعد صرف تین منٹ تھے۔ جب ایک حملہ آور کے پاس گولیاں ختم ہوئیں تو اس نے خود کش حملہ کیا اور تین عدالتیں تو بالکل ملبہ بن گئیں۔

چودھری خاور حنیف ایڈووکیٹ

Image caption ’حملہ آوروں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ کس پر فائرنگ کر رہے ہیں، چاہے وہ وکیل ہو، بیرا ہو، یا موکل ہو‘

راجہ بشارت صاحب ہمارے ایک ساتھی تھے۔ جب دو حملہ آور داخل ہوئے تو وہ اس وقت کینٹین میں ناشتہ کر رہے تھے۔ حملہ آوروں نے بلاترتیب فائرنگ کی، کسی کو کندھے پر لگی اور کسی کی ٹانگ پر۔ راجہ بشارت کو گولی لگی اور سینے سے نکل گئی۔ وہ ایک دکان میں گھس گئے اور اس کے شٹر بند کر دیے۔ وہاں وہ چالیس سے پچاس منٹ وہاں پڑے رہے اور ان کا خون مسلسل بہتا رہا۔

یہاں پر زیادہ تر وکلا تو غیر مسلح ہوتے ہیں۔ ان کے پاس کتابیں ہوتی ہیں اور فائلیں۔

کینٹین میں زیادہ تر وہ وکلا تھے جو شہر کے باہر سے آتے ہیں اور وہ صبح آٹھ بجے عدالت میں پیشیوں کے لیے آئے تھے۔ کوئی ناشتہ کر رہا تھا، کوئی کچہری جا رہا تھا اور آمدورفت کافی تھی، جس میں خواتین اور بچے بھی شامل ہوتے ہیں۔ حملہ آوروں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ کس پر فائرنگ کر رہے ہیں، چاہے وہ وکیل ہو، بیرا ہو، یا موکل ہو۔

ایف ایٹ کی اس کمپلیکس کو کسی منصوبے کے تحت تو بنایا نہیں گیا اور اس کے کئی داخلی دروازیں ہیں۔ نہ تو کوئی سکینر کام کر رہے تھے اور نہ ہی پولیس اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔ تاہم پولیس کی نااہلی تو نہیں ہو سکتی کیونکہ یہاں پر تو کوئی سکیورٹی نہیں ہے۔ شدت پسندوں کے لیے یہاں حملہ کرنا بہت آسان کام تھا۔

اسی بارے میں