کچہری حملہ: چیف جسٹس کا ازخود نوٹس، وکلا کا سوگ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عدالت نے اُن پولیس اہلکاروں کی فہرست بھی طلب کرلی ہے جنہیں ضلع کچہری میں تعینات کیا گیا تھا

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے ایف ایٹ کچہری میں ہونے والے خود کش حملوں سے متعلق از خود نوٹس لے لیا ہے۔

چیف جسٹس نے سیکرٹری داخلہ، اسلام آباد کے چیف کمشنر اور پولیس کے سربراہ کو منگل کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

چیف جسٹس نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ سے ضلع کچہری میں ہونے والے واقع سے متعلق جامع رپورٹ بھی طلب کرلی ہے اس کے علاوہ پولیس کے سربراہ سے اُن پولیس اہلکاروں کی فہرست بھی طلب کرلی ہے جنہیں ضلع کچہری میں تعینات کیا گیا تھا۔

چیف جسٹس نے تین روز کے اندر چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریوں سے اُن انتظامات سے متعلق رپورٹ طلب کرلی ہے جو اُنھوں نے اپنے اپنے صوبوں میں واقع ضلعی عدالتوں میں کیے ہیں۔

جبکہ وکلا کی تنظیم پاکستان بار کونسل نے کچہری پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے منگل چار مارچ کو یوم سوگ کو ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان بار کونسل نے مذمتی بیان میں اسلام آباد میں حفاظتی انتظامات میں سکیورٹی اداروں کی ناکامی پر خدشات کا اظہار کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ اگر دارالحکومت میں عدلیہ، وکلا، اور جج محفوظ نہیں ہیں تو باقی میں میں عام آدمی کا کیا حال ہوگا۔

وکلا کی تنظیم نے منگل کو پورے ملک میں یومِ یوگ اور احتجاج کا اعلان کیا جس کے دوران بار کونسلز کے اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔

بیان میں اسلام آباد حملے کے ذمہ داروں کی فوری گرفتاری اور انہیں قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

وکلا کی تنظیم نے ملک بھر میں ججوں اور وکلا کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

اسی بارے میں