خیبر ایجنسی: ایف سی گاڑی کے قریب دھماکہ، دو اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ایف سی کی گاڑی لنڈی کوتل سے جمرود جا رہی تھی کہ حملے کا نشانہ بن گئی

کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور حکومتِ پاکستان کی جانب سے فائر بندی کے اعلان کے ایک روز بعد قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں ایف سی کی گاڑی کے قریب دھماکے میں دو اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق یہ دھماکہ خیبر ایجنسی کے علاقے لنڈی کوتل کے قریب دریا خان کلی کے مقام پر ہوا۔ سڑک پر نصب بم اس وقت پھٹا جب ایف سی کی گاڑی وہاں سے گزر رہی تھی۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ایف سی کی گاڑی لنڈی کوتل سے جمرود جا رہی تھی جب یہ واقعہ پیش آیا۔

اس دھماکے میں دو اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں۔

یہ دھماکہ ایسے وقت ہوا ہے جب کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے دو روز قبل ہی ایک ماہ کی فائر بندی کا اعلان کیا تھا۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے ہفتے کو ایک بیان میں ایک ماہ کی فائر بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ تحریک طالبان کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے اپنے تمام حلقہ جات اور مجموعات کو ہدایت جاری کی جاتی ہے کہ تحریک طالبان کی طرف سے حکومت کے ساتھ جنگ بندی کے اعلامیے کا احترام کرتے ہوئے اس کی مکمل پاسداری کریں اور اس دوران ہر قسم کی جہادی کارروائیوں سے گریز کریں۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے ایک ماہ کی جنگ بندی کے جواب میں اتوار کو حکومتِ پاکستان نے طالبان کے خلاف جاری فضائی کارروائی معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔

وزیرداخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ طالبان کی جانب سےجنگ بندی کے بعد فضائی کارروائیاں معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے بیان میں کہا ’حکومت نے نہ تو باقاعدہ آپریشن کیا اور نہ ہی بلاجواز کارروائی کی۔‘

انہوں نے واضح کیا کہ اگر طالبان کی جانب سے کوئی حملہ کیا گیا تو اس کے جواب میں بھرپور کارروائی کی جائے گی۔

اسی بارے میں