کچہری واقعہ: ’دو پولیس اہلکاروں نے شدت پسندوں پر فائرنگ کی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’ضلعی کچہری میں 48 گھنٹوں میں سی سی ٹی وی لگائے جائیں اور واک تھرو گیٹس نصب کیے جائیں‘

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی کچہری میں پیر کو ہونے والے حملے پر لیے گئے از خود نوٹس کی سماعت میں عدالت نے کہا ہے کہ حکومت حملے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے لیے معاوضے کا اعلان کرے جو آج شام تک ادا کر دیا جائے۔

از خود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں ہوئی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ سے استفسار کیا کہ کتنے پولیس اہلکاروں کے پاس اسلحہ تھا اور کتنے پولیس اہلکاروں نے شدت پسندوں پر فائرنگ کی؟ جس پر سکندر حیات کا کہنا تھا کہ دو پولیس اہلکاروں نے شدت پسندوں پر فائرنگ کی۔

بینچ میں موجود جسٹس خلجی عارف حسین کا کہنا تھا کہ اگر پولیس اہلکار بروقت موقعے پر پہنچ جاتے تو شاید اتنی تباہی سے بچا جاسکتا تھا اور میڈیا بھی اس کی تصدیق کر رہا ہے کہ پولیس 40 منٹ کی تاخیر سے جائے وقوعہ پر پہنچی۔

سماعت میں عدالت نے حکم دیا کہ ضلعی کچہری میں 48 گھنٹوں میں سی سی ٹی وی لگائے جائیں اور واک تھرو گیٹس نصب کیے جائیں۔

سیکریٹری داخلہ نے عدالت کوبتایا کہ ضلعی عدالتوں کی سکیورٹی کے لیے 66 پولیس اہلکار تعینات ہوتے ہیں لیکن پیر کو 47 اہلکار موجود تھے۔

عدالت نے چیف کمشنر اور اسلام آباد پولیس کے سربراہ سے رپورٹ طلب کی ہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ سکندر حیات سے استفسار کیا کہ جب شدت پسندوں نے ججوں اور وکلا کے چیمبرز پر حملے کیے تو اُس وقت کچہری میں موجود پولیس نے شدت پسندوں پر فائرنگ کیوں نہیں کی؟

اس موقعے پر وکلا نے عدالت میں کھڑے ہوکر کہا کہ اُنھوں نے وہاں پر موجود پولیس اہلکاروں سے کہا تھا کہ حملہ آور لوگوں کو مار رہے ہیں لہٰذا اُن پر فائرنگ کرو، جس پر پولیس اہلکاروں کا کہنا تھا کہ اُن کے پاس جو بندوقیں ہیں وہ استعمال کے قابل نہیں ہیں۔

آئی جی اسلام آباد پولیس کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں نے شدت پسندوں پر فائرنگ کی جس کی وجہ سے ایک شدت پسند زخمی ہوا اور بعدازاں اُس نے خود کو دھماکے سے اُڑا لیا۔

دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس انور کاسی نے پیر کے روز ہونے والے واقعے کی تحقیقات کے لیے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی سربراہی میں ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے جو اس واقعے سے متعلق اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سفارشات مرتب کرے گی۔

دریں اثنا سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت بھی بدھ کے روز تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ سابق صدر کے وکلا نے پہلے ہی خصوصی عدالت کے رجسٹرار کو آگاہ کردیا تھا کہ ضلع کچہری میں ہونے والے واقعے کی وجہ سے وہ عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے۔

واضح رہے کہ پیر کو اسلام آباد کی ضلعی عدالت میں فائرنگ اور خودکش دھماکوں کے نتیجے میں ایڈیشنل سیشن جج رفاقت احمد اعوان سمیت 11 افراد ہلاک اور 25 زخمی ہو گئے تھے۔

ضلع کچہری پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری احرار الہند نامی ایک غیر معروف شدت پسند گروپ نے قبول کر لی ہے اور کہا ہے کہ وہ شریعت کے نفاذ تک اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

اس تنظیم کے ترجمان نے بی بی سی کو فون کر کے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی اور کہا کہ وہ کبھی بھی کالعدم تحریک طالبان کا حصہ نہیں تھے۔

اس سے قبل ذرائع ابلاغ کو جاری کیے جانے والے تحریری بیان میں کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے کہا تھا کہ اسلام آباد حملے سے تحریکِ طالبان کا کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی ان کا کوئی ساتھی اس میں ملوث ہے۔

اسی بارے میں