’ریاست کو میری قربانی کا احساس کب ہوگا؟‘

Image caption ریاست کو میری قربانی کا احساس کب ہو گا: فضہ کے والد

’کاش میری بہن میری بات مان لیتی اور میرے ساتھ دبئی چلی جاتی‘ یہ الفاظ فضہ ملک کے بھائی علی کے ہیں۔

دہشت گردی کا نشانہ بنے والی 23 سالہ فضہ پیر کو عدالت میں ایک فوجداری مقدمہ (کریمینل کیس) میں بطور وکیل پیش ہونے کے لیے گئی تھیں کہ حملہ آوروں نے دارالحکومت کی ضلعی عدالتوں پر خودکش حملہ کر دیا اور اس حملے میں گیارہ لوگ ہلاک ہوئے۔

فضہ نےگذشتہ برس وکالت کی ڈگری حاصل کی تھی۔ انہوں نے اسلام آباد کے سکول آف لا سے قانون کی تعلیم حاصل کی جبکہ انٹرنیشنل ڈگری لینے برطانیہ کی یونیورسٹی آف نارتھ کمبریا گئی تھیں۔ فضہ دو بھائیوں کی اکلوتی بہن تھیں۔ان کے دونوں بھائی دبئی میں کام کرتے ہیں لہٰذا پاکستان میں ان کے والدین کو صرف فضہ کا ساتھ ہی میسر تھا۔

فضہ کی ایک آنکھ سے بینائی ختم ہوگئی تھی مگر اس کے ایک دوست احمد کے مطابق ’اس میں کچھ کر گزرنے کا عزم اتنا پختہ تھا یہ کمزوری کبھی اس کے آڑے نہیں آئی۔‘

فضہ کی یاد میں فیس بک پر اس کے دوستوں نے ایک پیج بھی بنایا ہے اور ٹوئٹر پر بھی اس کی ہلاکت کا سن کر لوگ اب تک اظہارِ تعزیت کر رہے ہیں۔

فضہ کی والدہ نے روتے ہوئے بتایا کہ ’وہ اس ملک سے اتنا پیار کرتی تھی کہ وسائل ہونے کے باوجود بھی وہ یہ ملک چھوڑنا نہیں چاہتی تھی، وہ یہاں کی بہترین کریمینل وکیل بننا چاہتی تھی مگر یہ ملک ہی اسے کھا گیا۔‘

وہ مسلسل روتے ہوئے یہی کہہ رہی تھیں کہ ’میری بیٹی بہت خوبصورت تھی اسے ابھی نہیں جانا چاہیے تھا۔‘

انہوں نے درخواست کی ’میں میڈیا سے تنگ آچکی ہوں، ہر روز کیمرا لے کر آ جاتے ہیں کم از کم سوئم تک کا تو انتظار کر لیتے۔ پلیز میں مزید کیمرے پر نہیں آنا چاہتی۔‘

جب بعض میڈیا والوں نے فضہ کی والدہ کی درخواست کے باوجود کیمرے گھر کے اندر لے جانے کی کوشش کی تو ان کے چند رشتہ دار غصے میں آگئے اور بولے ’کیا آپ لوگوں کے پاس دل ہے؟ کیوں بار بار آپ ہمارے زخم ہرے کرنے آجاتے ہیں؟‘

انہوں نے میڈیا کو دروازے پر ہی روک لیا اور گھر کے اندر داخلہ بند کر دیا۔ تاہم غیر رسمی بات چیت کے لیے مجھے اندر جانے کی اجازت مل گئی۔

اندر داخل ہوتے ہی میں نے 29 برس کے علی کو اپنی ماں کے کندھے پر سر رکھ کر بچوں کی طرح دھاڑیں مار کر روتے پایا۔ انھوں نے کہا کہ ’دہشت گردی کی وجہ سے اس ملک میں کوئی بھی بھائی اپنی بہن کو گھر سے باہر بھیج کر سکون سے نہیں بیٹھ سکتا۔‘

انہوں نے التجا کی کہ ’پلیز تمام بھائیوں سے کہیں کہ وہ اپنی بہنوں کا خیال رکھیں۔ آج یہ میرے ساتھ ہوا ہے کل خدا نخواستہ ان کے ساتھ ہو سکتا ہے۔‘

اسد چند دن پہلے اپنی بہن کے ساتھ فون پر ہونے والے پیغامات کے تبادلے کو یاد کر کے رو رہا تھا۔

فضہ اپنے والد کے سب سے قریب تھیں۔ ان کے والد کہتے ہیں ’وہ میرا بہت خیال رکھتی تھی۔ ملک کے دشمنوں نے میرے گھر کی رونق چھین لی ہے۔‘

انہوں نے کہا ’ہم نے تو قربانی دے دی ہے مگر میری بیٹی کی قربانی رائیگاں چلی جائے گی اگر ریاست اور قوم دہشت گردی کے خلاف یکجا نہیں ہوئی۔

’ریاست کو میری قربانی کا احساس کب ہوگا؟‘

اسی بارے میں