’طالبان مذمت بھی کریں اور مدد بھی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption طالبان سے مذاکراتی عمل جاری رہے گا تاہم اسے مزید موثر بنایا جائے گا: رحیم اللہ یوسفزئی

حکومتِ پاکستان کی کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ امن مذاکرات کی کمیٹی کا کہنا ہے کہ طالبان کے ساتھ جنگ بندی کے اعلان کے بعد شدت پسندی کے واقعات کا جاری رہنا قیام امن کے لیے مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچائے گے۔

منگل کو چار رکنی کمیٹی نے وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی اور اس کے بعد وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ کمیٹی نے وزیراعظم کو آئندہ کے موثر لائحہ عمل کے لیے اپنی تجاویز پیش کیں۔

بیان کے مطابق وزیراعظم نے کمیٹی سے کہا کہ پائیدار اور مستقل امن کے قیام کے لیے حکومتی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

طالبان سے مذاکراتی کمیٹی کے رکن رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ ملاقات میں شدت پسندی کے حالیہ واقعات اور ان سے طالبان کی لاتعلقی کے بارے میں بات ہوئی ہے۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت یہ بھی چاہے گی کہ ’طالبان ان کارروائیوں کی مذمت بھی کرے اور ان کے ذمہ دار گروہوں کا پتہ لگانے میں حکومت کی مدد کریں۔‘

رحیم اللہ یوسف زئی بتایا کہ طالبان سے مذاکراتی عمل جاری رہے گا تاہم اسے مزید موثر بنایا جائے گا اور اس کے لیے نئے طریقے اپنائے جائیں گے۔

انھوں نے بتایا کہ کچھ فیصلے بھی ہوئے جن کا بعد میں اعلان کیا جائے گا۔

کمیٹی کے رکن رحیم اللہ یوسف زئی نے بتایا کہ طالبان کی جانب سے فائر بندی کے باوجود خیبر ایجنسی اور اسلام آباد میں ہونے والے حملوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

’اس طرح کے واقعات اگر ہوں گے تو مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچےگا اس کی روک تھام کی جائے، وزیراعظم کو کچھ تجاویز دی گئی تاکہ مذاکراتی عمل کو موثر بنایا جائے۔‘

اس سے پہلے حکومتی کمیٹی کے رکن میجر (ر) عامر نے طالبان کی جانب سے فائر بندی کے اعلان کے بعد اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اب حکومت کو طالبان سے براہ راست مذاکرات کرنے چاہییں۔

منگل کو وزیراعظم کے ساتھ ملاقات میں دی جانے والی تجاویز میں کیمٹی میں اراکین کا اضافہ یا موجودہ کمیٹی کی تحلیل کی تجویز سامنے آئی؟

اس سوال کے جواب میں رحیم اللہ یوسف زئی نے کہا کہ ہر رکن نے اپنی اپنی رائے دی اور میجر(ر) عامر نے بھی اپنی یہ تجویز پیش کی۔

انھوں نے کہا براہ راست مذاکرات ہوں گے تو اس کا فائدہ ہو گا۔

’یہ تو شروع سے ہم کہہ رہے ہیں میں نے بھی کہا تھا کہ اس میں سیاسی لوگ اور فوج کی نمائندگی بھی ہونی چاہیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اسلام آباد میں پیر کو شدت پسندی کے واقعے میں گیارہ افراد ہلاک ہو گئے تھے

رحیم اللہ یوسف زئی پر امید ہیں کہ حکومت کمیٹی کی تجاویز پر عمل کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان کی جانب سے فائر بندی کے بعد ہونے والے حملوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا گیا ہے لیکن حکومت چاہے گی کہ طالبان اس کی مذمت بھی کریں ۔

انھوں نے کہا کہ ’اس معاملے پر بات ہوئی اور ہم سمیت حکومت کے اہلکار سمجھتے ہیں کہ ان حملوں کو روکنے کی کوشش کی جائے اور دونوں فریق مل کر ان کا راستہ روکیں۔امن کی تلاش میں ابھی حکومت اور طالبان ساتھی بن گئے ہیں وہ ’پارٹنر ان پیس‘ ہیں، اس لیے ہم کہہ رہے ہیں کہ واقعی طالبان کے پاس معلومات ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ کچھ گروپ مذاکرات کے حق میں نھیں تو ان کا ہاتھ روکنا چاہیے۔‘

یاد رہے کہ پیر کو اسلام آباد کی کچہری میں ہونےوالے دھماکوں کے بعد کالعدم تحریک طالبان نے اس حملوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ ان کا کام نہیں کہ وہ پتہ لگائیں کہ حملے کون کر رہا ہے۔ اس پر پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار نے قومی اسمبلی میں اپنے پالیسی بیان میں کہا تھا کہ کہ طالبان پہلے کھوج لگاییں کہ یہ کارروائیاں کون کر رہا ہے؟

سنیچر کو طالبان نے ایک ماہ کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا جواب میں اتوار کو حکومت نے ان کے خلاف جاری فضائی کارروائیاں معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اسی بارے میں