’دہشتگردوں اور آئین پر یقین رکھنے والوں کو الگ الگ کریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران قومی سلامتی پالیسی پر بحث بھی شروع ہوئی

پاکستان کی قومی اسمبلی کے ارکان نے حکومت سے کہا ہے کہ مذاکرات کے ساتھ ساتھ ان شدت پسندوں کے خلاف کارروائی بھی کی جائے جو جنگ بندی کے باوجود دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہیں۔

بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق وفاقی وزیر حاجی غلام احمد بلور نے دہشت گردوں کے خلاف حکومتی پالیسی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں اور آئین پر یقین رکھنے والوں کو الگ الگ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ایک ماہ کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد اسلام آباد میں خودکش حملے کیوں ہوئے؟ اور ’جنگ بندی کا اعلان کرنے والوں سے پوچھا جائے کہ اگر وہ اس میں ملوث نہیں ہیں تو پھرکون ہے۔‘

مسلم لیگ ق سے تعلق رکھنے سابق وفاقی وزیر بلدیات دانیال عزیز نے طالبان سے مذاکرات کی سختی سے مخالفت کی اور کہا کہ دارالحکومت اسلام آباد جہاں تمام آئینی ڈھانچہ موجود ہے ’وہاں پر بھی ایف ایٹ کا واقعہ رونما ہوا اور 40 منٹ تک پولیس یا ایلیٹ فورس جائے وقوعہ پر نہیں پہنچ سکی۔‘

پیپلز پارٹی کے عبدالستار بچانی نے کہا کہ حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں بیرونی مداخلت کی جا رہی ہے۔

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی زاہدحامد نے آج قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران قومی سلامتی پالیسی سے متعلق تحریک بھی بحث کے لیے ایوان میں پیش کی۔

اس پر بحث کرتے ہوئے اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے نئی پالیسی کی مخالفت کی اور کہا کہ نئی پالیسی کے تحت تمام سکیورٹی اداروں کو پولیس کے اختیارات حاصل ہو جائیں گے:’یہ ادارے جب چاہیں کسی کوقتل کریں، کسی کی جائیداد ضبط کر لیں یا کسی کے گھرمیں داخل ہو کر وہاں لوٹ مار کریں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’دنیا میں کہیں بھی ایسا قانون موجود نہیں ہے کہ سکیورٹی کے نام پر ایک ادارہ یا شخص خود مدعی، خودگواہ اور خود ہی عدالت ہو۔‘

مولانا شیرانی نے خبردار کیا کہ اگر داخلی سلامتی پالیسی کے نام پر مذہب یا مذہبی اداروں کو ہدف بنایا گیا تو اس کے خطرناک نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

قومی داخلی سلامتی پالیسی پر بحث کے دوران ایک موقع پر نبیل گبول نے نکتۂ اعتراض پر اٹھ کر کہا کہ ’قومی داخلی سلامتی پر بحث ہو رہی ہے لیکن عوام کے ووٹوں سے منتخب تقریباً 350 ارکان میں سے صرف 12 ایوان میں موجود ہیں۔‘

یاد رہے کہ بدھ کو جب قومی سلامتی پالیسی پر بحث ہو رہی تھی تو اس دوران دن بھر وزیراعظم میاں نوازشریف، وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار سمیت کوئی اہم وزیر ایوان میں موجود نہیں تھا۔

اسی بارے میں