’ مذاکرات رابطہ کاری کے بعد فیصلہ سازی کے مرحلے میں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ’طالبان کی کمیٹی نے وزیرِاعظم نواز شریف سے ملاقات کی خواہش بھی ظاہر کی ہے۔‘

حکومت اور طالبان کی مذاکراتی کمیٹیوں نے بدھ کو اکوڑہ خٹک میں ملاقات کے بعد کہا ہے کہ وہ ’اب رابطہ کاری سے نکل کر دوسرے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں جو فیصلہ سازی کا مرحلہ ہے جس میں کمیٹیوں میں رد وبدل کرنے کا فیصلہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

طالبان کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے ہمراہ اکوڑہ خٹک میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے حکومتی کمیٹی کے رابطہ کار عرفان صدیقی نے کہا کہ آج بنیادی طور پر نئے مرحلے کے لیے مذاکراتی عمل کو موثر، فعال اور نتیجہ خیز بنانے اور فیصلہ سازی کی جانب بڑھنے کے بارے میں بات ہوئی ہے۔‘

عرفان صدیقی نے کہا کہ رابطہ کاری سے نکل کر ہم فیصلہ سازی کے مرحلے میں چلے گئے ہیں جہاں اہم فیصلے ہونا ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز وزیراعظم کو بتایا تھا کہ نئے مرحلے کو موثر، نتیجہ خیز اور مفید بنانے کے لیے شاید لائحہ عمل میں تبدیلی کرنا ہوگی۔

عرفان صدیقی کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ ’یہ (مذاکراتی) عمل فی الحال جاری رہنا چاہیے اور آپ طالبان کی کمیٹی سے مشاورت کریں کہ نئے عمل کے بارے میں ان کے ذہن میں کیا نقشہ ہے۔‘

پریس کانفرنس سے خطاب میں طالبان کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ فائر بندی کے بعد خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے طالبان نے نظام کو بدلنے، پارلیمنٹ کو بدلنے یا آئین کو بدلنے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا اور یہ بہت حوصلہ افزا بات ہے۔

مولانا سمیع الحق نے آپریشن نہ کرنے کا اپنا مطالبہ دہرایا: ’خدا کے لیے دنیا بھر کی طاقتیں کہیں بھی تو آپ آپریشن کی طرف نہ جائیں۔‘

طالبان کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد ہونے والے واقعات کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے، اس پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’تیسری قوت کی نشاندہی کی ضرورت ہے اور طالبان سے بھی کہا ہے اور حکومت سے بھی کہا ہے کہ ایک ہی صفحے پر آ کر کہ دشمن کی نشاندہی کرو۔‘

مولانا سمیع الحق نے کہا:’احرار الہند کیا بلا ہے ہم نے نام بھی نہیں سنا، ان کو بھی معلوم نہیں، طالبان سے آج صبح بات ہوئی تو ان کو بھی کہا ہے کہ ان کا پتہ کریں، طالبان بہت سنجیدگی سے پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ احرارالہند کون ہیں اور فیس بک سے انھیں پتہ بھی مل گیا ہے۔‘

مولانا سمیع الحق نے مطالبہ کیا کہ جب تک نشاندہی ہو اس وقت تک طالبان پر انگلی نہیں اٹھائی جانی چاہیے۔ انھوں نے مزید کہا کہ جب ضرورت پڑے گی تو حکومتی کمیٹی اور طالبان قیادت کے درمیان ملاقات بھی کروائیں گے۔

حکومت اور طالبان کی مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان کیا کمیٹیوں کی تحلیل یا پھر ان میں دیگر اراکین کی شمولیت پر بات ہوئی؟ اس سوال کے جواب میں طالبان کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے واضح کیا کہ کمیٹیوں کی ضرورت ہے لیکن مقتدر قوتیں بھی اس میں شامل ہوں۔

’ہم نے کہہ دیا ہے کہ کمیٹیوں کی ضرورت ہے، ہم چاہتے ہیں جن کے ہاتھ میں فیصلے کی قوت ہے وہ ہماری مدد کریں اور اس میں شامل ہو جائیں۔

’جو بھی مقتدر قوتیں ہیں وزیراعظم بھی ہیں، فوج بھی ہے، وزیرداخلہ بھی ہیں، ایجنسیاں بھی ہیں یہ ساری ذمہ داری ان سب کی ہے۔‘

عرفان صدیقی نے کہا کہ یہ سوالات اس حکمت عملی اور لائحۂ عمل کی جزیات سے تعلق رکھتے ہیں جن پہ ابھی ہم گفتگو کررہے ہیں اور جن پہ ہم وزیراعظم سے ملاقات کر چکے ہیں اور طالبان کی مذاکراتی کمیٹی اسی پر وزیراعظم سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔

کمیٹی میں کون ہوگا کون نہیں ہوگا، کیا یہی دو کمیٹیاں کام کریں گی یا کوئی اور کمیٹی بنائی جائے گی اس کے اجزائے ترکیبی کیا ہوں گے ان معاملات کو ایک دو روز میں طے کیا جائے گا۔

حکومتی کمیٹی کے رکن میجر عامر کی تجویز کہ کمیٹی کو تحلیل کردیا جائے پر تبصرہ کرتے ہوئے عرفان صدیقی نے کہا کہ اگر ہم تحلیل ہوتے تو گھروں میں بیٹھے ہوتے۔

انھوں نے کہا کہ ان کا خیال نہیں کہ میجر صاحب نے یہ کہا کہ کمیٹیاں تحلیل کر دی جائیں لیکن ہم انھی کی بات آگے بڑھا رہے ہیں، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ فیصلہ سازی کے امور میں مجودہ اراکین اس قابل ہوں گے کہ فیصلہ صادر کر سکیں؟ ان کا کہنا کہنا تھا کہ انھی امور پر بات چیت کر کے ہم ایک مجموعیی رائے بنائیں گے۔

عرفان صدیقی نے کہا کہ اگر طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کی طرح طالبان خود بھی کھل کر دہشت گردی کی کارروائیوں کی مذمت کریں گے تو اس سے مذاکراتی عمل کو تقویت ملے گی۔

اس سے قبل منگل کو چار رکنی حکومتی کمیٹی نے وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی اور اس کے بعد وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ کمیٹی نے وزیراعظم کو آئندہ کے موثر لائحۂ عمل کے لیے اپنی تجاویز پیش کیں۔

بیان کے مطابق وزیراعظم نے کمیٹی سے کہا کہ پائیدار اور مستقل امن کے قیام کے لیے حکومتی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

یاد رہے کہ پاکستان میں مسلم لیگ ن کی حکومت نے گذشتہ سال برسرِاقتدار آنے کے بعد ملک میں امن قائم کرنے کے سلسلے میں تحریکِ طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے کی پالیسی اختیار کی تھی تاہم مذاکرات کا عمل ابتدائی مراحل میں ہی پٹری سے اس وقت اتر گیا تھا جب تحریکِ طالبان کے ایک ذیلی گروپ نے تحریکِ طالبان مہمند ایجنسی نے ایف سی کے ان 23 اہلکاروں کو قتل کر دیا جنہیں جون 2010 میں اغوا کیا گیا تھا۔

طالبان کی جانب سے حملےجاری رہنے کی صورت میں حکومت نے مذاکرات کو بے معنی قرار دے دیا تھا۔ وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ حکومت نے طالبان سے غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا۔

یکم مارچ کو تحریکِ طالبان پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ وہ ملک کے اکابرین، علمائے کرام کی اپیل، طالبان کمیٹی کے احترام اور اسلام اور ملک کے مفاد میں ایک مہینے کے لیے جنگ بندی کا اعلان کرتے ہیں۔

تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے ایک ماہ کی جنگ بندی کے جواب میں حکومتِ پاکستان نے طالبان کے خلاف جاری فضائی کارروائی معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔

بدھ کو یہ تازہ ملاقات طالبان کی جانب غیر مشروط جنگ بندی کے اعلان کے بعد ہی منقعد کی گئی ہے۔ تاہم اس اعلان کے بعد اب تک دہشت گردی کے واقعات میں کم سے کم 18 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان حملوں میں سب سے بڑا حملہ پیر کے روز اسلام آباد میں ذیلی عدالت پر ہوا جس میں 11 افراد ہلاک ہوئے۔تاہم طالبان نے اس سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

اسی بارے میں