عمر اکمل جھگڑا، پولیس نےمعافی قبول کر لی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption عمر اکمل ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں بھی شامل ہیں

لاہور پولیس کے ایک اہلکار نے پاکستانی کرکٹر عمر اکمل کے والد کی طرف سے غیر مشروط معافی قبول کر لی ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق عمر اکمل کے والد نےڈپٹی انسپکٹر جنرل انویسٹی گیشن ذوالفقار حمید سے جمعرات کو ان کے دفتر میں ملاقات کی اور انھیں بتایا کہ ان کا بیٹا ایشیا کپ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی ٹیم کے ساتھ بنگلہ دیش میں ہے اور اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کی بنا پر پولیس کے سامنے حاضر ہونے سے قاصر ہے۔

اس ملاقات میں لاہور پولیس کے دیگر اعلیٰ اہل کار بھی موجود تھے۔

یاد رہے کہ لاہور میں گلبرگ پولیس نے یکم فروری کو عمر اکمل کے خلاف ایک ٹریفک وارڈن کے ساتھ بدتمیزی کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا تھا۔

اس واقعے کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر عمر اکمل کے خلاف لاہور کی ایک مقامی عدالت کے جج امتیاز انور نے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے تھے۔

جس دن عمر اکمل کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے تھے اس دن عمر اکمل نے بنگلہ دیش میں افغانستان کے خلاف ایک مشکل وقت میں سنچری بنا کر پاکستان کو کامیابی سے ہمکنار کر دیا تھا۔ افعانستان کے خلاف جارحانہ انداز میں کھیلتے ہوئے انھوں نے سات چوکوں اور تین چھکوں کی مدد سے 102 رنز بنائے۔

ٹریفک وارڈن کیس میں عدالت نے عمر اکمل کو طلب کیا تھا چونکہ وہ ملک میں موجود نہیں لہٰذا عدالت نے انھیں 11 مارچ کو پیش ہونے کا حکم دیا۔

ایشیا کپ کھیلنے والی پاکستانی ٹیم آٹھ مارچ کو واپس آئے گی اور دس مارچ کو دوبارہ بنگہ دیش میں ہونے والے ورلڈ ٹی ٹونٹی کے لیے روانہ ہو گی۔

عمر اکمل ٹی ٹونٹی ٹیم کا بھی حصہ ہیں اس لیے 11 مارچ کی سماعت میں بھی ان کی عدالت میں حاضری کا امکان نہیں ہے۔

خیال رہے کہ عمر اکمل کو یکم فروری کو لاہور کے علاقے گلبرگ کی فردوس مارکیٹ میں ٹریفک سنگل توڑنے اور وارڈن سے ہاتھاپائی پر حراست میں لیا گیا تھا اور ایک رات حراست میں رہنے کے بعد انھیں ایک لاکھ روپے کی ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔

عمر اکمل اپنے خلاف ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور ان کے مطابق ٹریفک وارڈن نے ان پر تشدد کیا تھا۔

اسی بارے میں