مشرف غداری کیس، تعصب اور عدالتی تشکیل سے متعلق درخواستیں مسترد

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption گذشتہ سماعت پر خصوصی عدالت نے کہا تھا کہ حالات جیسے بھی ہوں ملزم کو 11 مارچ کو عدالت میں پیش ہونا پڑے گا

پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کی دو درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے۔

پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق پرویز مشرف کے وکلا نے خصوصی عدالت کی تشکیل کے طریقۂ کار کے خلاف اور بینچ میں موجود ججوں کے ملزم کے خلاف مبینہ تعصب کے حوالے سے درخواستیں دائر کر رکھی تھیں۔

ان درخواستوں میں جسٹس فیصل عرب اور جسٹس یاور علی کے خلاف تعصب کے الزامات تھے۔ جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں خصوصی عدالت کا تین رکنی بینچ مقدمے کی سماعت کر رہا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ سماعت پر خصوصی عدالت نے کہا تھا کہ حالات جیسے بھی ہوں ملزم کو 11 مارچ کو عدالت میں پیش ہونا پڑے گا اور اُس دن اُن پر فرد جُرم عائد کی جائے گی۔

عدالت نے یہ حکم پرویز مشرف کے وکلا کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواست کے بارے میں دیا۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ وفاقی دارالحکومت اس وقت شدت پسندوں کے نشانے پر ہے، اس لیے ایسے حالات میں اُن کے موکل کی زندگی کو خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا جو ملک کے سابق صدر ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان افواج کے سربراہ بھی رہے ہیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ دھمکیوں کی وجہ سے اس مقدمے کی سماعت ملتوی نہیں کی جا سکتی اور پرویز مشرف 11 مارچ کو ہر صورت عدالت میں پیش ہوں۔

اس کے علاوہ پرویز مشرف کی وکلا ٹیم نے عدالت میں درخواست دائر کی ہے کہ اُن کے موکل کی والدہ بیمار ہیں، لہٰذا اُن کی تیمارداری کے لیے باہر جانے کی اجازت دی جائے جس پر عدالت نے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

اسی بارے میں