’خواتین کے خلاف تشدد میں کوئی کمی نہیں آئی‘

Image caption انسانی حقوق کے کارکنوں نے طالبان کے ساتھ حکومت کے مذاکرات پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے

پاکستان میں حقوق نسواں کے کارکنوں اور قانون سازوں کے مطابق جمہوریت کے تسلسل سے خواتین کے بعض دیرینہ مسائل پر قوانین تو بنے ہیں مگر ان پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات اور امتیازی سلوک میں کوئی کمی نہیں آئی ہے جبکہ حالیہ برسوں میں بدامنی اور دہشتگردی میں اضافے سے سب سے زیادہ خواتین متاثر ہوئی ہیں اور ان کے لیے تعلیم، صحت اور کام کاج کے مواقع مزید محدود ہوئے ہیں۔

حقوق نسواں کی کارکنوں نے پاکستانی طالبان کے ساتھ حکومت کے امن مذاکرات پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کی رہنما زہرہ یوسف کہتی ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت کے پچھلے چھ برسوں میں خواتین کے حقوق کے میدان میں جو واحد پیش رفت ہوئی ہے، وہ بعض معاملات پر قانون سازی ہے۔

اُن کے بقول ’جنسی ہراس کے خلاف قانون بنا۔ تیزاب پھینکنے کے جرم کی سزا کو مزید سخت کرنے کے لیے قانون میں ترمیم کی گئی اور قبائلی دشمنی کے تصفیے کے لیے بچیوں اور عورتوں کی لین دین اور جائیداد ہتھیانے کے لیے قرآن سے شادی کرانے جیسی فرسودہ رسوم کے خلاف بھی قانون سازی ہوئی۔‘

’اور اس کے علاوہ نیشنل کمیشن آن اسٹیٹس آف ویمن کو بھی ذرا خودمختاری دی گئی ہے اور سندھ اور بلوچستان کی اسمبلیوں نے گھریلو تشدد کے خلاف بل بھی پاس کیے مگر افسوس یہ ہے کہ عملدرآمد کی طرف زیادہ توجہ نہیں دی گئی جس کی وجہ سے جمہوریت ہونے کے باوجود عورتوں کی حالت میں بہت بہتری نہیں آئی ہے۔‘

زہرہ یوسف کہتی ہیں کہ موجودہ پارلیمینٹ نے وجود میں آنے سے لے کر اب تک خواتین کے بارے میں کوئی قابل ذکر قانون سازی نہیں کی ہے اور اب بھی بہت سے ایسے سنگین مسائل ہیں جن پر پارلیمینٹ نے توجہ نہیں دی ہے۔

’اگر آپ غیرت کے نام پر خواتین کے قتل کے واقعات کو دیکھیں تو وہ ابھی تک جاری ہیں۔ اعدادوشمار کے مطابق غیرت کے نام پر قتل کے ہر سال 1000 واقعات ہوتے ہیں پورے ملک میں اور اسی طرح سے عورتوں کے خلاف تشدد کے پچھلے ایک سال میں 6000 کے قریب دوسرے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

انسانی حقوق کی کارکن فرزانہ باری کی رائے بھی بہت زیادہ مختلف نہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ جمہوریت اور حقوق نسواں پر نئی قانون سازی کے باوجود پاکستانی خواتین کے حالات میں کوئی قابل ذکر تبدیلی نہ آنے کی ایک اور وجہ بھی ہے۔

فرزانہ باری کا مزید کہنا تھا ’عورتوں کی زندگی کے حالات جو ہوتے ہیں وہ ملک کے وسیع تر سماجی اور معاشی ڈھانچے سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں تو جس طرح آپ نے دیکھا کہ حالیہ برسوں میں معیشت زیادہ بگڑی ہے، غربت بڑھی ہے اور دہشتگردی میں اضافہ ہوا ہے تو اس کے عورتوں پر بہت زیادہ منفی اثرات پڑے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے موجودہ حالات میں کئی علاقوں میں محنت کش خواتین کے لیے گھروں سے باہر نکلنا مشکل ہوگیا ہے۔

’آپ دیکھیں کہ قبائلی علاقوں میں اب غیرسرکاری تنظیموں کو کام کرنے کی اجازت نہیں جس کی وجہ سے وہاں صحت اور تعلیم جیسے شعبوں میں خواتین اب کام نہیں کر پا رہیں۔ اسی طرح سے خیبر پختونخوا این جی او کے کارکنوں کے قتل اور اغوا کے واقعات ہوئے۔ کراچی میں بھی اورنگی پائلٹ پروجیکٹ کی پروین رحمن کا قتل ہوا۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز پر حملے ہوئے تو عامل خواتین کے لیے تو حالات بہت ہی زیادہ بگڑے ہیں۔‘

فرزانہ باری یہ بھی کہتی ہیں کہ پاکستان میں شدت پسندی اور دہشتگردی میں حالیہ برسوں میں جس قدر اضافہ ہوا ہے اور پاکستانی ریاست اور حکومت دونوں ہی اس پر قابو پانے میں جس طرح ناکام نظر آتی ہیں، اس سے حقوق نسواں کی تحریک کے لیے چیلنجز بھی بڑھے ہیں۔

زہرہ یوسف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خواتین کو ویسے بھی اداروں کی مدد کبھی حاصل نہیں رہی اور انہوں نے اپنی سماجی اور معاشی بہتری کے لیے جو بھی اقدامات ہوئے ہیں وہ ان کی اپنی کوششوں کا نتیجہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کو انصاف کے حصول میں دشواری کی ایک وجہ پاکستان میں عدلیہ کا ادارہ بڑی حد تک مردوں تک محدود ہونا بھی ہے۔

زہرہ یوسف کا کہنا تھا ’ایک دفعہ جب بے نظیر بھٹو کی حکومت تھی تو انہوں نے پہلی بار اعلی عدلیہ میں عورتوں کی تقرریاں کیں مگر اس وقت اعلی عدالتوں میں عورتوں کی نمائندگی نہیں ہے تو حکومت کو اس پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ اس سے عورتوں کے حالات میں میرے خیال میں کافی فرق پڑے گا۔‘

عمرکوٹ سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی میں اقلیتی رکن لال مالھی کہتے ہیں کہ پاکستان کے موجودہ حالات میں مذہبی اقلیتوں کی خواتین کے کئی سنگین مسائل پر نظر انداز ہورہے ہیں۔

’جو اقلیتیں پاکستان میں رہتی ہیں۔ ان کی خواتین کے مسائل بہت زیادہ ہیں۔ سماج کے جتنے بھی شعبے اور ادارے ہیں، ان میں ان کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ویسے بھی اس وقت پاکستان کا جو سماجی اور ثقافتی منظر ہے، اس میں اقلیتیں پورے ملک میں تنہا محسوس کرتی ہیں، خاص طور پر خواتین۔‘

لال مالھی نے کہا کہ پاکستان میں آج تک ہندوؤں کی شادی کی رجسٹریشن کا کوئی قانون نہیں تھا جس کے لیے پارلیمنٹ میں بل زیرِ التوا ہے جسے امید ہے کہ جلد ہی منظور کرلیا جائے گا مگر انہوں نے کہا کہ غیرمسلم خواتین کو جبری طور پر مذہب تبدیل کرانے کے خلاف قانون سازی کے لیے سیاسی جماعتوں میں وسیع تر اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں نے طالبان کے ساتھ حکومت کے مذاکرات پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو مذاکرات میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے۔

اسی بارے میں