فضائل و کمالاتِ چوہدری نثار اینڈ کو

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption لیکن اس حکومت میں اگر کوئی واحد کومک ریلیف ہے تو وہ وزیرِ داخلہ کی ذاتِ والا صفات ہے

شریف حکومت کو خیر سے نواں مہینہ پورا ہو کے دسواں چڑھنے والا ہے لیکن اب تک کوئی اطلاع نہیں۔

وزیرِاعظم بننے سے پہلے تو کبھی کبھار نواز شریف کا کوئی ہنستا مسکراتا فوٹو بھی چھپ جایا کرتا تھا لیکن اب صرف ستا ہوا چہرہ ہی دکھائی پڑتا ہے۔ حکومت کا فریج خارجی و داخلی، مکمل، نامکمل، نیم مکمل، کچے پکے، ادھ کچے ادھ پکے فیصلوں سے بھرا پڑا ہے۔ مگر فریج پر تالہ ہے اور کُنجی وزیرِ اعظم نواز شریف اور اس کی ڈپلی کیٹ نائب وزیرِ اعظم شہباز شریف کے پاس رہتی ہے اور دونوں اکثر یا تو عجلت میں ہوتے ہیں یا سفر میں۔

سر افغانستان سے نیٹو افواج اس سال دسمبر میں ۔۔۔ اوئے بکواس نہ کر۔ تے نوں ہر ویلے افغانستان دی پئی ہوئی اے ۔۔۔

سر وہ ایران گیس پائپ لائن ۔۔۔کھسماں نو کھا توں وی تے تیری پیپ لین وی ۔۔۔

سر وہ انڈیا سے کھلی تجارت کا سمجھوت ۔۔۔ میں جُتی لا لہنی اے جے اگے اک لف ظ ہور آکھیا ۔۔۔

سر وہ بارہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ پھر سے ۔۔۔ گل سن۔ توں ضرور آج میرے ہتھیں بست ہو کے ای جاویں گا۔۔۔

شریف حکومت نے اپنے لیے جو خصوصی ایٹلس تیار کروائی ہے اس میں صرف چار ممالک ہیں چین، ترکی، برطانیہ اور پاکستان بھی۔

چین سے آنا ہے چین جانا ہے۔ ترکی پھر جانا ہے اور پھر جانا ہے۔ یہ فیصلہ برطانیہ سے واپسی پر ہوگا اور وہ بات برطانیہ جانے سے پہلے ہوگی۔

اب تک یہ بھی نہیں طے ہو پایا کہ نادرا اور پیمرا کے سابق چیرمین، سابق گورنر سٹیٹ بینک، تحریکِ انصاف کے عمران خان یا طالبان کے امیر مولوی فضل اللہ میں سے کس کو شریف حکومت اپنا کلیدی حریف سمجھتی ہے۔

لیکن اس حکومت میں اگر کوئی واحد کومک ریلیف ہے تو وہ وزیرِ داخلہ کی ذاتِ والا صفات ہے۔ جس طرح پچھلے شائقین چارلی چیپلن، گوپ، نذر، منور ظریف، رنگیلا، لہری، محمود، جونی واکر، اسرانی، قادر خان، جونی لیور اور مسٹر بین وغیرہ کو دیکھ کے نہال ہوتے رہے ہیں اسی طرح رحمان ملک کے بعد چوہدری نثار علی خان دوسری فن کار ہیں جنہوں نے وزارتِ داخلہ جیسے خشک اور بد دماغ محکمے کو اپنے وجود، پرفارمنس اور شومین شپ کی خداداد صلاحیت سے کشتِ زعفران بنا رکھا ہے۔ ایسی ہستیوں کے سبب وزارتِ داخلہ کی ریٹنگ آسمان توڑ ہوچکی ہے۔ جس طرح پچھلے دور میں رحمان ملک کے اقوال زبان زدِ عام تھے اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ مقبولیت اقوالِ نثار حاصل کررہے ہیں۔

مثلاً قولِ نثار ہے کہ وقت آگیا ہے کہ قوم فیصلہ کرلے کہ غیرت چاہیے یا ڈالر۔

ایک جگہ فرماتے ہیں کہ دو ہزار آٹھ سے نومبر دو ہزار تیرہ تک ڈرون حملوں میں صرف سڑسٹھ سویلینز ہلاک ہوئے ہیں باقی دو ہزار دو سو ستائیس دھشت گرد تھے۔

ایک دن کشف ہوا کہ اسلام آباد کی سکیورٹی فول پروف ہے۔

دوسرے روز کشف ہوا کہ اسلام آباد کچہری میں سیشن جج کو دھشت گردوں نے نہیں ان کے اپنے محافظ نے غلطی سے مارا۔

پھر فرمایا اسلام آباد کچہری دھماکے کے مجرموں تک پہنچنے میں طالبان حکومت کی مدد کریں۔

پھر ارشاد ہوا کہ میں طالبان کو کرکٹ میچ کھیلنے کی دعوت دیتا ہوں۔

پھر یہ قولِ فیصل دہن سے جھڑا کہ طالبان ملک دشمن نہیں صرف حکومت دشمن ہیں۔

پھر یہ دانائی بکھیری کہ حکومت کے پاس تین آپشن ہیں بات چیت، جنگ یا پھر جنگ اور بات چیت۔

ایسے بیسیوں شگوفے ہیں جو چوہدری صاحب نے پچھلے نو ماہ کے دوران بطور وزیرِ داخلاپا چھوڑے ہیں۔

موجودہ حکومت اس لحاظ سے بہتر ہے کہ اس نے کلیدی عہدوں کے لیے باقاعدہ اشتہارات دینے کی پالیسی اپنانے کا اعلان کررکھا ہے تاکہ تقرر میرٹ پر ہو۔ مگر یہ واضح نہیں کہ آیا وفاقی کابینہ بھی اس اصول کی زد میں ہے کہ نہیں۔

اسی بارے میں