اقلیتوں کو انصاف دلانا شاید کبھی ترجیح ہی نہیں رہا

Image caption معاملہ کیا تھا؟ وہی توہین مذہب کا الزام۔ کالونی میں بچپن کے دو دوستوں عیسائی ساون مسیح اور مسلمان شاہد عمران کے درمیان سنوکر کھیلتے ہوئے جھگڑا ہوا اور پھر بڑھتے بڑھتے بات ایسی بڑھی کہ ساون پر توہین مذہب کا الزام لگ گیا

لاہور کے علاقے بادامی باغ میں تنگ گلیوں اور اونچی اونچی دیواروں کے پیچھے کروڑوں روپے کا کاروبار ہوتا ہے۔ یہاں لوہے کے بڑے بڑے گودام ہیں۔ انھیں گوداموں کے بیچوں بیچ مسیحیوں کی ایک بستی ہے جہاں عیسائیوں کے تقریباً ڈیڑھ سو گھر ہیں۔

لگ بھگ ایک کروڑ آبادی کے شہر لاہور اور اس کے گرد و نواح میں ایسی درجنوں بستیاں ہوں گی۔ لیکن یہ بستی گذشتہ برس اس وقت دنیا بھر میں خبروں کی زینت بنی جب مسلمانوں کے ایک ہجوم نے پولیس کے سامنے عیسائیوں کے گھروں اور گرجوں پر حملہ کر دیا توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی پھر اسے آگ لگا دی۔

توہین رسالت کے الزام کے بعد عیسائی آبادی پر حملہ

عدالت کا دوبارہ تحقیقات کرانے کا حکم

معاملہ کیا تھا؟ وہی توہین مذہب کا الزام۔ کالونی میں بچپن کے دو دوستوں عیسائی ساون مسیح اور مسلمان شاہد عمران کے درمیان سنوکر کھیلتے ہوئے جھگڑا ہوا اور پھر بڑھتے بڑھتے بات ایسی بڑھی کہ ساون پر توہین مذہب کا الزام لگ گیا۔

چند ہی گھنٹوں میں کئی دہائیوں سے آباد اس بستی کے ارد گرد کشیدگی اتنی زیادہ ہوگئی کہ کہ عیسائیوں کے لیے اپنی جان اور عزت بچانا مشکل ہو گیا۔

تئیس سالہ صدف کی پیدائش بھی اسی کالونی میں ہی ہوئی ہے۔ صدف بتاتی ہیں ’اس دن سب کچھ معمول کے مطابق تھا پھر ہمیں پتہ چلا کہ باہر کچھ لوگ جمع ہورہے ہیں جو غصے میں ہیں۔ ہم نے پولیس کو بلایا تو پولیس نے ہمیں گھر چھوڑ کر جانے کو کہا اور یقین دہانی کروائی کہ وہ ہمارے گھروں کی حفاظت کریں گے۔ ہجوم ہمیں مارنے کو پڑ رہا تھا میں کھانا پکا رہی تھی ہم نے وہیں چولہے بند کیے اور اپنی جان بچانے کے لیے ایسے بھاگے کہ نہ پاوں میں چپل تھی اور نہ سروں پر دوپٹے۔‘

جوزف کالونی خالی ہوتے ہی پولیس نے ہجوم کو کھلی چھٹی دے دی اور پھر شاید ہی کوئی گھر ایسا ہوگا جہاں چاردیواری کا تقدس پامال نہ ہوا ہو۔ لوٹ مار کی گئی تھوڑ پھوڑ ہوئی اور پھر پوری آبادی کو آگ لگا دی گئی۔

جب یہ منظر پوری دنیا میں نشر ہوا تو حکومت کو ہاتھ پاوں پڑ گئے۔ اور پھر غیرمعمولی کارگردگی کا ثبوت دیا گیا۔ چند ہی ماہ میں پوری آبادی کو ازسرے نو تعمیر کیا گیا۔ اور ہر خاندان کو پانچ پانچ لاکھ روپے کی مدد بھی دی گئی۔

سہیل مسیح رکشہ ڈرائیور ہیں۔ ان کا رکشہ بھی جوزف کالونی میں لگنے والی آگ کی نذر ہوچکا ہے۔ اب وہ کرائے کا رکشہ چلاتے ہیں۔ سہیل کہتے ہیں مکان تو نئے بن گئے ہیں لیکن یہ آبادی رہینے کے قابل نہیں رہی۔

’پاکستان میں یہ واقعات اس وقت تک ہوتے رہیں گے جب تک کہ توہین مذہب کے قانون میں تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ تنازع تو ایک گھر سے چلا تھا پھر ایک سو تیس گھروں کو کیوں جلایا گیا۔ ہماری انجیلیں بھی جلائی گئیں ہماری مذہب کی بھی توہین کی گئی۔ جلانے والے بھی مسلمان تھے پرچے درج کرنے والی بھی جج بھی مسلمان ہیں۔‘

توہین مذہب کے ملزم ساون مسیح کا مقدمہ اس وقت زیرسماعت ہے۔ سیکورٹی خدشات کے باعث مقدمے کی سماعت جیل میں ہی کی جارہی ہے۔ ساون کے والد چمن مسیح کی اپنے بیٹے سے جیل میں ملاقات تو ہوتی رہیتی ہے لیکن انھیں اس کے مستقبل کی فکر کھائے جارہی ہے۔ چمن مسیح کہتے ہیں

’میرے بیٹے کو کوئی باہر نکالنے کی کوشیش نہیں کرتا۔ ہم بہت پریشان رہیتے ہیں۔ کبھی گھر پکا کے نہیں دیکھا کھا کے نہیں دیکھا۔ میں پہلے بالکل ٹھیک ٹھاک تھا اب میرے ہاتھ کاپنے لگے ہیں۔ بستی میں سے بھی کوئی ہمارا ساتھ نہیں دے رہا۔ یہاں تک کہ کوئی گواہی دینے کو تیار نہیں کہتے ہیں ہمیں گولی ماردیں۔‘

جوزف کالونی پر حملہ کرنے کے پرچے میں نامزد تینتالیس افرد کو ضمانت پر رہائی مل چکی ہے۔ تاہم ان کی رہائی کے خلاف اپیل کی گئی جو زیرسماعت ہے۔

اس سے پہلے بھی گوجرہ اور شانتی نگر جیسے واقعات پیش آچکے ہیں۔ آج تک نہ تو ان واقعات سے متعلق حقائق منظرعام پر آسکے اور نہ ہی کسی کو ذمےدار ٹھہرا کر سزا دی گئی۔ کچھ دن زرائع ابلاغ پر آنے والی خبریں حکام کو سرگرم رکھتی ہیں اور پھر واقعات سرد خانے کی نذر ہوجاتے ہیں۔ کچھ عرصے بعدجب پھر اس طرح کا کوئی سانحہ ہوتا ہے تو آگ بجھانے کا کام شروع ہوجاتا ہے۔

اقلیتوں کو انصاف دلانا شاید کبھی ترجیح ہی نہیں رہا۔ یا پھر اکثریت کا دباؤ اتنا ہے کہ ریاستی ادارے بھی بےبس ہیں۔

اسی بارے میں