’بچوں میں غذائی قلت ہے، لیکن یہ تو پورے سندھ میں ہے‘

Image caption وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاھ نے اتوار کو مٹھی اور آس پاس کے علاقوں کا دورہ کیا اور بتایا کہ کئی درجن طبی ٹیمیں میدان میں اتار دی گئی ہیں اور ادویات کے دو ٹرک بھی پہنچ چکے ہیں

کسی کے کلائی کی نبض میں ڈرپ لگی ہے تو کسی کے ناک میں آکسیجن کی نلکی جارہی ہے، ایک بسترے پر دو مائیں اپنے بیمار بچوں کے ساتھ موجود ہیں تو کہیں زمین پر کوئی کپڑا بچھا کر بیٹھ گیا ہے۔ ہر کسی کی خواہش ہے کہ ڈاکٹر ان کے بچے کو پہلے دیکھے۔

سول ہپستال مٹھی میں ویسے تو سرکاری طور پر تمام ہی امراض کا علاج ہوتا ہے، لیکن موجودہ وقت ایسا لگتا ہے کہ یہ ہپستال ہی بچوں کا ہے، یہ پورے ضلعے کا واحد سرکاری ہپستال ہے جہاں لیڈی ڈاکٹر اور بچوں کے امراض کے ماہر موجود ہیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کہیں دوسرے ہپستال میں مریضوں کے داخلے کی سہولت دستیاب نہیں، اسی لیے بھی تمام مریض یہاں کا رخ کر رہے ہیں، جہاں عام دنوں میں او پی ڈی سو سوا ہوتی تھی وہاں پانچ سو مریض پہنچ چکے ہیں۔

وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاھ نے اتوار کو مٹھی اور آس پاس کے علاقوں کا دورہ کیا اور بتایا کہ کئی درجن طبی ٹیمیں میدان میں اتار دی گئی ہیں اور ادویات کے دو ٹرک بھی پہنچ چکے ہیں۔ لیکن اسی روز مٹھی سے سول ہسپتال میں 125 کلومیٹر دور سے ڈانو دھاندل کے علاقے سے تین بیمار بچوں کو لایا گیا تھا۔ ان تین بچوں میں سے ایک کی حالت تشویش ناک تھی۔ اس بچے کے والد نے بتایا کہ ان کا دیہی صحت مرکز بند تھا اس لیے انہیں یہاں آنا پڑا۔

ضلعے میں ایمرجنسی کا نفاذ ہے لیکن یہ صرف ڈسٹرکٹ ہپستال تک محدود نظر آتا ہے۔

بدین مٹھی روڈ پر کچھ مقامات پر جانوروں کے چارے کی بوریاں تقیسم ہوتی ہوئی نظر آئیں، لیکن کئی خواہشمند اور بوریاں کم نکلیں۔ ایک سینٹر پر محکمہ اینیمل ہسبنڈری کے ڈاکٹر نے بتایا کہ وہ صرف دوسو بوریاں لائے تھے جو فوری ختم ہوگئیں، وہ فی جانور ایک کلو کے حساب سے چارہ دے رہے ہیں جبکہ لوگوں میں سے کسی کی سو بھیڑیں ہیں تو کسی کی دوسو۔

متاثرین کا کہنا تھا کہ یہ چارہ تو ایک ہفتے تک بھی نہیں چل سکے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان میں مال مویشیوں کی شماری کے مطابق تھر میں پچاس لاکھ سے زائد مویشی موجود ہیں۔ گزشتہ دو ماہ میں بیماری کے باعث کئی ہزار بھیڑیں مرچکی ہیں۔

صوبائی حکومت کی جانب سے مجرمانہ غفلت برتنے میں ملوث افسران کی نشاندہی کے لیے ڈی آئی جی حیدرآباد کی سربراہی میں قائم کی گئی۔ کمیٹی نے بھی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے، جس نے تھر کے معززین، این جی او ورکرز اور صحافیوں سے بھی ملاقات کی اور اس بحرانی صورتحال کے بارے میں ان کی رائے جانیں۔

عام طور پر اس نوعیت کی تحقیقات ریٹائرڈ جج یا سول بیوروکریٹس کرتے ہیں لیکن اس بار یہ تحقیقات پولیس افسر کے حوالے کی گئی ہے، جو آئندہ کی حکمت عملی بھی بنانا چاہتے ہیں۔

Image caption ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کہیں دوسرے ہپستال میں مریضوں کے داخلے کی سہولت دستیاب نہیں، اسی لیے بھی تمام مریض یہاں کا رخ کر رہے ہیں، جہاں عام دنوں میں او پی ڈی سو سوا ہوتی تھی وہاں پانچ سو مریض پہنچ چکے ہیں

کراچی میں تحریک انصاف کے شہر کے پوش علاقوں میں امدادی سامان اکٹھا کرنے کے لیے کیمپ قائم کیے لیکن کراچی سے لیکر مٹھی تک صرف بدین میں ایک رینجرز کا کیمپ نظر آیا، جو خالی تھا۔

مٹھی کے مرکزی چوک کیمپوں سے سجا ہے۔ ایسا نظر آتا ہے، جیسے جمعہ یا اتوار بازار ہو ہر کسی نے اپنے سٹال لگا رکھا ہے۔

سول ہپستال مٹھی میں ادویات کی کمی کی شکایت کی جارہی تھی جبکہ ہپستال کے مرکزی دروازے کے باہر محکمے صحت کے کیمپ پر کھانسی بخار کے شربت سجے ہوئے ہیں۔

ڈیپلو، چھاچھرو اور ڈاھلی کے علاقوں سے بھی بچوں کی ہلاکت کی خبریں آرہی ہیں، لیکن پہلے ڈاکٹر غذائی قلت کو بھی ایک وجہ قرار دیتے تھے لیکن حکام اور افسران کے دوروں اور بریفنگ کے بعد وہ نمونیا، اسہال اور دیگر بیماریاں شامل کرتے ہیں اور آخر میں یہ ضرور تسلیم کرتے ہیں کہ بچوں میں غذائی قلت ہے، لیکن اگلا جملہ یہ ہوتا ہے کہ یہ تو پورے سندھ میں ہے۔

جماعت الدعوۃ، پاکستان فوج اور رینجرز کے بھی کیمپ قائم ہیں۔ سرحدی علاقہ ہونے کی وجہ سے رینجرز کی یہاں کئی چوکیاں موجود ہیں جہاں سے لوگوں کو روزانہ گذرنا ہوتا ہے، جو تجربہ کئی بار اچھا نہیں ہوتا۔

جب سول ہپستال میں رینجرز حکام پانی کی بوتل اور کچھ سامان تقسیم کر رہے تھے تو لوگوں کی آنکھوں میں تھوڑا سا خوف ضرور موجود تھا۔

اسی بارے میں