پی ٹی آئی کی کمیٹی میں شمولیت پر آمادگی، گلزار خان نامزد

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ’ایم کیو ایم، پی پی پی، اے این پی بار بار انھیں طالبان خان کے نام سے پکارتی ہیں اور مذاکرات کو مسئلے کا حل نھیں سمجھتی‘

پاکستان تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا سے منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی گلزار خان کا نام طالبان سے مذاکرات کے لیے حکومتی کمیٹی میں نامزد کیا ہے۔

تحریک انصاف کی میڈیا کوارڈینیٹر انیلہ خواجہ نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے پی ٹی آئی نے ایم این اے گلزار خان کا نام دیا ہے۔

دوسری جانب عمران خان نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ، پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ان پر کڑی تنقید کی۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ جماعتیں بار بار انھیں طالبان خان کے نام سے پکارتی ہیں اور مذاکرات کو مسئلے کا حل نھیں سمجھتی۔ ان جماعتوں نے اپنے اقتدار کے دوران امریکہ کی جنگ لڑی۔‘

پیپلز پارٹی کی سابقہ چیئرپرسن اور وزیر اعظم پاکستان بینظیر بھٹو کا حوالے دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ این آر او کے بدلے پاکستان کو امریکہ کی جنگ میں دھکیلا گیا۔ اسی طرح اے این پی کا نام لیے بغیر عمران خان نے کہا کہ اس جماعت نے امریکہ سے ڈالر لیے۔ ’جماعت کی والدہ اور ماموں کہتے ہیں کہ ان کے لیڈرز کو 35 ملین ڈالرز دیا گیا‘۔

تحریک انصاف کے سربراہ نے تیسری جماعت یعنی ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کے بارے میں کہا کہ وہ 20 سال سے برطانوی شہری بنے ہوئے ہیں۔

ادھر پیپلز پارٹی کے رہنما اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان سے پوچھیں کہ ’ماورائے آئین کالعدم تنظیم کو دفتر بنانے کی پیشکش کر رہے ہیں، جو لوگ تقریباً 60 ہزار لوگوں کے قتل میں ملوث ہیں۔‘

یاد رہے کہ پاکستان کے وزیرداخلہ چوہدری نثار نے 6 مارچ کو قومی اسمبلی میں اپنے خطاب میں کہا تھا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے عمل کو زیادہ تیزی سے آگے بڑھانے کے لیے ایک سرکاری مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے اور ہدف یہی ہے کہ آئندہ ہفتے سے براہِ راست مذاکرات شروع ہو جائیں۔ تاہم ابھی تک حکومت کی جانب سے سرکاری کمیٹی میں کسی ردوبدل کا اعلان نھیں کیا گیا۔

حکومت کی جانب سے پہلے سے موجود سرکاری کمیٹی کے ممبران امید کا اظہار کر رہے ہیں کہ جلد ہی حکومت کی جانب سے نئی کمیٹی کا اعلان ہو جائے گا۔

کمیٹی کےایک رکن کا کہنا ہے کہ ’ہمارا کام ختم ہوچکا ہے اب قوی امید ہے کہ حکومت نئی کمیٹی بنائے گی جس میں فوج کا کوئی اعلیٰ افسر بطور نمائندہ ضرور شریک ہوگا۔

’فوج کے بغیر یہ ہو نھیں سکتا، فوج کو براہ راست یا بلواسطہ مذاکرات میں شریک ہونا ہو گا۔‘

ادھر طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم کہتے ہیں کہ ابھی تک حکومتی ردعمل کے منتظر ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستانی فوج نے اس الزام کو مسترد کیا ہے کہ انھوں نے طالبان کے بچوں اور عورتوں کو قید نھیں کیا لیکن طالبان جلد ہی اس کی فہرست فراہم کریں گے جو حکومت کو دی جائے گی۔

’گزشتہ اجلاس میں ہم نے طالبان کی جانب سے دی جانے والی ان 60 افراد کی فہرست حکومت کو دی ہے جو طالبان کےمطابق غیر عسکری تھے اور جنھیں فوج نے قتل کر دیا تھا۔‘

اسی بارے میں