خدشہ ہے مشرف کو بھی سلمان تاثیر کی طرح نشانہ بنایا جائے گا: وزارت داخلہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption وزارت داخلہ حکام کا کہنا ہے کہ دستیاب معلومات کے مطابق شرپسندوں نے پہلے ہی سے اے ایف آئی سی ہسپتال سے خصوصی عدالت جانے والے تمام ممکنہ راستوں کی ریکی کر لی ہے

پاکستان کی وزارت داخلہ کو خفیہ اداروں سے موصول ہونے والی معلومات میں اس خطرے کی نشاندہی کی گئی ہے کہ سابق صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کو سابق گورنر سلمان تاثیر کی طرح سکیورٹی اداروں کے اندر موجود شدت پسند عناصر کی طرف سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

اس خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ: ’ایسا لگتا ہے کہ شدت پسندوں کے ہمدرد مشرف کے سکیورٹی قافلے میں موجود ہیں تاکہ انھیں قتل کیا جا سکے۔‘

یہ خط جس کا عکس نجی ٹی وی چینل دنیا ٹی وی پر دکھایا جا رہا وزارت داخلہ اور نیشل کرائسس مینجمنٹ سیل کے سرکاری لیٹر ہیڈ پر جاری کیا گیا ہے اور اس کے اوپر’سیکریٹ‘ کا لفظ لکھا ہوا ہے۔

اس میں کہا ہے گیا ہے کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی جان کو القاعدہ یا کالعدم تحریک طالبان سے خطرہ ہے جبکہ سابق صدر کے وکیل کہتے ہیں کہ عدالت نے تحفظ کی یقین دہانی کروائی تو ہی مشرف منگل کو عدالت میں حاضری دیں گے۔

وزارت داخلہ کے حکام کا کہنا ہے کہ دستیاب معلومات کے مطابق شرپسندوں نے پہلے ہی سے اے ایف آئی سی ہسپتال سے خصوصی عدالت جانے والے تمام ممکنہ راستوں کی ریکی کر لی ہے اور سخت گیر جنگجوؤں کو جنرل (ر) پرویز مشرف کے حفاظتی دستے کا پیچھا کرنے پر معمور کیا گیا ہے۔

وزارت داخلہ کے اس خط میں ہوم سیکرٹری پنجاب، پی پی او پنجاب، چیف کمشنر اسلام آباد، انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد، ڈی آئی جی سکیورٹی اسلام آباد اور آر پی او راولپنڈی کو مخاطب کیا گیا ہے ۔

خط میں کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف پر کورٹ کے اندر یا کورٹ کے باہر حملہ ہو سکتا ہے یا پھر ان کے قافلے کے راستے میں دیسی ساخت کے بم نصب کیے جا سکتے ہیں۔

دوسری جانب پرویز مشرف کے وکیل بیرسٹر محمد علی سیف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزارت داخلہ کے خط کے بارے میں معلوم ہوا ہے اور اب عدالت کی جانب سے سابق صدر مشرف کی جان کےتحفظ کی یقین دہانی کے بعد ہی عدالت جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’صحت کا معاملہ اپنی جگہ لیکن اب یہ تو سکیورٹی کا بھی مسئلہ ہے۔ یہ ایک نئی پیش رفت ہے جو بہت سیریئس معاملہ ہے اس کو عدالت اور حکومت دونوں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔‘

صدر مشرف کی منگل کو خصوصی عدالت میں پیشی کے حوالے سے بیرسٹر سیف کہا کہ ’منگل کے روز بھی ہم وہیں طریقہ کار اختیار کریں گے جو ہم پہلے کرتے تھے۔‘ انھوں نے کہا کہ پہلے بھی عدالت جب انھیں طلب کرتی تھی تو ہم پہلے ان کے تحفظ کی ضمانت مانگتے تھے اور پھر تسلی کے بعد انھیں عدالت میں پیش کیا جاتا تھا۔

یاد رہے کہ 5 مارچ کو سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے کہا تھا کہ حالات جیسے بھی ہوں ملزم کو 11 مارچ کو عدالت میں پیش ہونا پڑے گا اور اُس دن اُن پر فرد جُرم عائد کی جائے گی۔

تاہم اسی پیشی پر سابق صدر کی وکلا ٹیم میں شامل احمد رضا قصوری نے عدالت میں شدت پسندوں کی طرف سے لکھا گیا ایک مبینہ خط بھی عدالت میں پڑھ کر سُنایا جس میں اُن سمیت وکلا ٹیم میں شامل شریف الدین پیرزادہ اور انور منصور کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ وہ پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی پیروی چھوڑ دیں ورنہ اُنھیں اور اُن کے خاندان کے دیگر افراد کو نشانہ بنایا جائے گا۔

وزارت داخلہ کی جانب سے پیر کے روز جاری ہونے والے خط کی کاپیاں وزیراعظم ہاوس، ایوان صدر اور وزارت دفاع کو بھی ارسال کی گئی ہیں اور اس کے آخر میں ’خفیہ‘ لکھا ہے۔ تاہم وزارت داخلہ اور وزیراعظم ہاؤس سے رابطہ کیا گیا تاہم متعلقہ انتظامیہ نے اس کی تصدیق کرنے سے معذوری کا اظہار کیا۔

اسی بارے میں