کوئٹہ: فائرنگ سے پولیس کا ہیڈ کانسٹبل ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اتوار کو بھی کوئٹہ کے فاطمہ جناح روڈ پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ایک پولیس اہلکار کو ہلاک کیا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے داراحکومت کوئٹہ میں نا معلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ خصدار میں تاجروں نے بی این پی کے رہنما اور انجمنِ تاجران کے صدر کی ہلاکت کے خلاف شٹر ڈاؤن ہڑتال کی ہے۔

کوئٹہ میں ہمارنے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق پیر کو صبح جب پولیس کے ہیڈ کانسٹبل منظور احمد سریاب روڈ پر واقع اپنے گھر سے نکلے تو دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے انھیں نشانہ بنایا۔

منظور احمد اپنی الٹو کار میں سوار تھے اور وہ سریاب کے علاقے میں پولیس ٹریننگ سینٹر جا رہے تھے۔

حملہ آوروں نے انھیں نو ایم ایم کے پیسٹل سے نشانہ بنایا اور انھیں چھ گولیاں لگی جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔ان کا تعلق لیڑی بلوچ قبیلے سے تھا۔

واقعے کے بعد سریاب پولیس تھانے نے مقدمہ درج کرکے کارروائی شروع کر دی ہے۔

اتوار کو بھی کوئٹہ شہر کے مرکزی علاقے فاطمہ جناح روڈ پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ایک پولیس اہلکار کو ہلاک کیا۔ حملہ آور پولیس اہلکار کو ہلاک کرنے کے بعد ان کی موٹر سائیکل چھین کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

ادھر بلوچستان کے شورش زدہ علاقے خضدار میں تاجروں نے بی این پی کے رہنما اور انجمنِ تاجران خضدار کے صدر عطااللہ محمد زئی کے قتل کے خلاف پیر کو شٹر ڈاؤن ہڑتال کی ہے۔

عطااللہ محمد زئی کو اتوار کو خضدار شہر میں ہلاک کیا گیا تھا۔

خضدار پولیس کے مطابق عطاء اللہ محمدزئی اپنی گاڑی میں چاکرخان روڈ سے گزرہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر فائر کھول دی تھی جس سے عطاء اللہ محمدزئی اور ان کا ایک محافظ ہلاک ہوئے جبکہ ایک اور محافظ زخمی ہوا۔

عطاء اللہ محمدزئی ایک فلاحی ادارے الغنی ویلفیئر ٹرسٹ کے سربراہ بھی تھے۔

ان کی ہلاکت کے بعد شہر میں کشیدگی پھیل گئی جبکہ خضدار اور وڈھ میں اس واقعہ کے خلاف کاروباری مراکز بند ہوگئے۔ پولیس کے مطابق عطااللہ محمدزئی کی ہلاکت بظاہر ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ ہے۔

اسی بارے میں