’پانی کے تنازعات بھارت سے بات چیت کا حصہ بنائیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تمام اراکینِ سینٹ متفق تھے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے

پاکستان کے ایوانِ بالا سینٹ کے اجلاس میں متفقہ طور پر قرارار منظور کی گئی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جامعی مذاکرات میں پانی کے تنازعات بھی شامل کیے جائیں۔

آج کا اجلاس سینٹر طاہر مشہدی کے زیر صدارت ہوا جس میں یہ قراداد سینٹر صغریٰ امام نے پیش کی تھی۔

تمام اراکینِ سینٹ متفق تھے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور اس سلسلے میں حکومت صحیح اقدامات نہیں کر رہی۔

سینٹر مشاہد حسین نے سینٹ میں کہا ہے اطلاعات ہیں کہ پاکستان رواں ماہ بھارت کو پسندیدہ ملک کا درجہ دے رہا ہے۔

اس کے علاوہ آج سینٹ نے سول سرونٹس ترمیمی بل بھی متفقہ طور پر منظور کر لیا جس کی حکومت کی جانب سے کوئی مخالفت نہیں کی گئی۔

بل کے مطابق سرکاری ملازمین اب چھٹی لے کر بین الاقوامی اداروں، غیر سرکاری تنظموں، عالمی مالیاتی اداروں کے لیے کام نہیں کر سکتے۔

اگر ایسا کرنا مقصود ہوا تو صرف وفاقی حکومت ہی یہ فیصلہ کر سکتی ہے۔

ترمیمی بل کے مطابق دہری شہریت رکھنے والے گریڈ بیس اور بائیس کے ملازمین کو ترقی کے لیےاپنی دوسری شہریت چھوڑنا پڑے گی۔

Image caption سینٹر مشاہد حسین نے سینٹ میں کہا ہے اطلاعات ہیں پاکستان رواں ماہ بھارت کو پسندیدہ ملک کا درجہ دے رہا ہے

ایران گیس پائپ پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے پٹرولیم اور قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ایران پر کاروباری پابندیوں کے باعث کوئی بھی کمپنی اس منصوبے پر پیسے لگانے کے لیے تیار نہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایک کمپنی نے آلات بھی بیچنے سے انکار کر دیا تاہم انھوں نے اراکین کو یقین دلایا کہ اگر ایران پر پابندی ختم ہو جائے تو وہ تیس ماہ میں پائپ لائن بنا سکتے ہیں۔

اراکین نے وفاقی حکومت کے بعد اب صوبائی حکومتوں سے درخواست کی ہے جیلوں میں قیدیوں کے لیے تفریحی سینٹر بنائے جائیں۔

پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کی نجکاری کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔

سینٹر رحمان ملک نے کہا کہ ایئرلائن پاکستان کا وقار ہے اور نجکاری کے بعد اس کا نام بھی بدل جائے گا جو کہ غلط ہے۔

انھوں نے کہا کہ پی آئی اے کی فرانس ،امریکہ اور دیگر ممالک میں خاصے اثاثے ہیں اگر اس کا ایک حصہ بھی بیچ دیا جائے تو ادارے کے مالی مسائل ختم ہو جائیں گے۔

اسی بارے میں