’حکومتِ سندھ کو کتنے بچوں کی ہلاکت کے بعد ہوش آیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption وزیرِ اعلی سندھ نے اتوار کو اور وزیرِ اعظم نے پیر کو علاقے کا دورہ کیا

سپریم کورٹ نے حکومت سندھ سے تھر میں قحط سالی سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے جس میں موجودہ صورت حال کے ذمہ داران اور اس کی وجوہات کے تعین کے علاوہ صوبائی حکومت کی طرف سے کی گئی امدادی کارروائیوں کی تفصیلات مانگی گئی ہیں۔

چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے پیر کے روز تھر میں قحط سالی سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی جس میں ایڈووکیٹ جنرل سندھ عبدل فاتح ملک پیش ہوئے۔

انھوں نے عدالت میں تھر کی صورتِ حال پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں کھانے پینے کی اشیا اور دیگر سامان بھجوا دیا گیا ہے، جبکہ وزیرِ اعلیٰ سندھ نے اتوار کو اور وزیرِ اعظم نے پیر کو علاقے کا دورہ کیا۔

انھوں نے کہا کہ جب تک بچوں کی حالت انتہائی خراب نہیں ہوتی، والدین بچوں کا علاج نہیں کرواتے۔ انھوں نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ گذشتہ تین ماہ میں 60 بچے ہلاک ہوئے ہیں، تاہم، وجہ قحط سالی نہیں بلکہ نمونیا اور دیگر بیماریاں تھیں۔

اس پر جسٹس شیخ عظمت سیعد نے پوچھا کہ کیا وہ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ بچوں کی ہلاکت کے ذمہ دار والدین ہیں؟ ’لوگوں کو وزیرِ اعلیٰ اور وزیرِ اعظم کی نہیں، کھانے کی ضرورت ہے۔‘

چیف جسٹس نے بھی اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومتِ سندھ کو کتنے بچوں کی ہلاکت کے بعد ہوش آیا۔

انھوں نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے پوچھا کہ کل یعنی اتوار کے روز کتنے بچے ہلاک ہوئے تھے؟ وقفے کے بعد، عبدل فاتح ملک نے عدالت کو بتایا کہ دو بچے ہلاک ہوئے تھے۔ چیف جسٹس نے تھر میں قحط سالی سے متعلق رپورٹ طلب کی جو آئندہ پیر سترہ مارچ کو ہونے والی سماعت میں پیش کی جائے گی۔

اسی بارے میں