’اسے کمرہ عدالت سے باہر نکال دیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مقدمے کی سماعت کے دوران ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے سب کو پتہ تھا کہ آج پرویز مشرف عدالت میں پیش نہیں ہوں گے

پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کے دوران اُس وقت تناؤ پیدا ہوگیا جب پرویز مشرف کی وکلاء ٹیم میں شامل رانا اعجاز روسٹم پر آئے اور اس مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس فیصل عرب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اُنھیں ’لیاری گینگ‘ سے ایک گمنام ٹیلی فون کال موصول ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اُنھوں (رانا اعجاز) نے فیصل عرب کے ساتھ گُذشتہ سماعت کے دوران بدتمیزی کی تھی جس کی وجہ سے انھیں زندہ نہیں چھوڑا جائے گا۔

رانا اعجاز نے عدالت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اس مقدمے کی سماعت کرنے والے جج ’کرائے کے قاتل‘ ہیں اور اگر اُنھیں کچھ ہوا تو اس کا مقدمہ بینچ کے سربراہ جسٹس فیصل عرب کے خلاف درج کروایا جائے گا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ایک وکیل کی جانب سے اس طرح کے الفاظ کسی طور پر بھی قبول نہیں کیے جاسکتے جس پر رانا اعجاز کا کہنا تھا کہ عدالت بےشک اُنھیں جیل بجھوا دیں اُنھیں اس کی کوئی پروا نہیں ہے۔

جسٹس فیصل عرب نے کمرۂ عدالت میں موجود پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کو بارہا کہا کہ پرویز مشرف کے وکیل کو کمرۂ عدالت سے نکال دیں لیکن پولیس اہلکار ٹس سے مس نہیں ہوئے۔

کمرۂ عدالت میں موجود ایس ایس پی سپیشل برانچ نے جب پولیس اہلکاروں کو حکم دیا کہ رانا اعجاز کو کمرۂ عدالت سے باہر نکال دیا جائے تو پھر کچھ پولیس اہلکار اپنی سیٹوں سے اُٹھے تو ضرور لیکن پرویز مشرف کی وکلاء ٹیم میں شامل فیصل چوہدری نے ان پولیس اہلکاروں کو آگے آنے سے روک دیا اور پولیس اہلکار فوری حکم بجالاتے ہوئے وہیں رُک گئے۔

اس صورت حال میں ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ پولیس اہلکار عدالت کے نہیں پرویز مشرف کے وکلاء کا حکم مان رہے ہوں۔ جسٹس فیصل عرب نے جب اُونچی آواز میں پولیس اہلکاروں کو حکم دیا کہ اُسے باہر نکال دیں تو پھر پولیس اہلکار نہ چاہتے ہوئے بھی آگے بڑھے اور پرویز مشرف کے وکیل کو کمرۂ عدالت سے باہر لے گئے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اگر پرویز مشرف کے وکیل نے اپنے رویے پر معافی نہ مانگی تو اُنھیں توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا جائے گا۔

پرویز مشرف کے بارے میں وزارتِ داخلہ کے ادارے نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل کی طرف سے جاری ہونے والے سکیورٹی الرٹ جاری ہونے پر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وزارتِ داخلہ کے اداروں کے دوران ہم آہنگی نہیں ہے۔

خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رپورٹ کی روشنی میں وزارتِ داخلہ کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو لکھے جانے والے ’خفیہ‘ سکیورٹی الرٹ اتنی جلدی منظرِعام پر نہیں آتے جتنی جلدی سابق فوجی صدر پر ہونے والے ممکنہ حملے سے متعلق سکیورٹی الرٹ منظرِ عام پر لایا گیا۔

واضح رہے کہ یہ سکیورٹی الرٹ دس مارچ کو لکھا گیا تھا جبکہ گیارہ مارچ کو پرویز مشرف نے عدالت میں پیش ہونا تھا۔

سیکریٹری داخلہ کا عدالت میں کہنا تھا کہ یہ خط کرائسز میجمنٹ سیل نے لکھا ہے جبکہ اُنھیں اس کے بارے میں علم نہیں جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ یہ ادارہ بھی تو وزارتِ داخلہ کے ماتحت ہی ہے۔

سیکریٹری داخلہ اور اس مقدمے کے چیف پراسیکیوٹر کے بیان میں بھی تضاد نظر آیا۔ اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کو عدالت میں پیش کرنے کے لیے اُن کی حفاظت پر 2200 سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ سییکرٹری داخلہ کے بقول ان اہلکاروں کی تعداد 1600 ہے۔

منگل کے روز غداری کے مقدمے کی سماعت کے دوران ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے سب کو پتہ تھا کہ آج پرویز مشرف عدالت میں پیش نہیں ہوں گے۔

اس مقدمے کی سماعت کرنے والے جج صاحبان بھی ایک گھنٹے کی تاخیر سے عدالت پہنچے جس کے بعد اس مقدمے کے چیف پراسکیوٹر اور سب سے آخر میں سابق فوجی صدر کے وکلاء جن میں شریف الدین پیرزادہ اور انور منصور شامل ہیں، عدالت پہنچے۔

سکیورٹی کے اقدامات بھی اُس طرح سخت نظر نہیں آئے جس طرح گُزشتہ سماعتوں کے دوران دیکھنے کو ملے تھے۔

اسی بارے میں