ایمرجنسی میں مدد کرنے والوں پر مقدمہ چلائیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption درخواست گُزار کا کہنا ہے کہ آئین کے تحت اُن افراد کے خلاف بھی غداری کے مقدمے کی کارروائی ہوتی ہے جنہوں نے آئین کو معطل کرنے میں مرکزی ملزم کا ساتھ دیا ہو

سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس مقدمے میں اُن افراد کو بھی شامل کیا جائے جنہوں نے تین نومبر سنہ دو ہزار سات میں ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے دوران معاونت کی تھی۔

اس درخواست میں اُن افراد کے نام تو نہیں لیےگئے لیکن پرویز مشرف کے متعدد بیانات سامنے آئے ہیں جن میں کہا گیا تھا کہ اُنھوں نے ملک میں تین نومبر سنہ دو ہزار سات میں ایمرجنسی اُس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز، وفاقی کابینہ، گورنروں اور کورکمانڈروں کے مشورے سے بحثیت آرمی چیف لگائی تھی۔

خصوصی عدالت میں یہ درخواست پرویز مشرف کی وکلا ٹیم کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ درخواست گُزار کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل چھ کی شق چھ کی سب کلاز دو کے تحت اُن افراد کے خلاف بھی غداری کے مقدمے کی کارروائی ہوتی ہے جنہوں نے آئین کو معطل کرنے میں مرکزی ملزم کا ساتھ دیا ہو۔

درخواست میں مذید کہا گیا ہے کہ سنہ اُنیس سو تہتر کے غداری ایکٹ کے تحت اس میں معاون کارروں کے لیے بھی وہی سزا تجویز کی گئی ہے جو مرکزی ملزم کے لیے ہے اور ایسے افراد کی فہرست فراہم کرنا وفاقی حکومت کا کام ہے۔

سابق آرمی چیف کے وکلا کی جانب سے دائر ہونے والی اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس مقدمے میں جو شہادت مرکزی ملزم کے خلاف استعمال ہوگی وہی شہادت اُن افراد کے خلاف بھی استعمال ہوگی جو آئین کی معطلی میں معاون کار تھے۔

درخواست میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ غداری کے مقدمے کی درخواست سے پہلے وفاقی حکومت نے جو تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی اُس کی رپورٹ ابھی تک عدالت میں پیش نہیں کی گئی۔ اس کے علاوہ اس تحقیقاتی ٹیم میں شامل اُن افسران کو کھڈے لائن لگا دیا گیا جنہوں نے تحقیقاتی رپورٹ وزیر اعظم کی خواہش کے مطابق تیار نہیں کی تھی۔

درخواست میں مذید کہا گیا ہے کہ اگر معاون کارروں کو غداری کے مقدمے میں شامل نہ کیا گیا تو اس سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوں گے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے تین نومبر سنہ دوہزار سات کے اقدام سے متعلق سپریم کورٹ کے اکتیس جولائی سنہ دوہزار نو کے فیصلے پر عمل درآمد کے مقدمے میں پرویز مشرف کے وکیل احمد رضا قصوری نے جب یہ کہا تھا کہ اُن اعلی فوجی اور سول افسران کے خلاف بھی کارروائی کی جائے جنہوں نے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ میں پرویز مشرف کا ساتھ دیا تھا جس کے بعد سابق صدر نے احمد رضا قصوری کو مذید دلائل دینے سے روک دیا تھا۔

اسی بارے میں