پاکستان:زرِ مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر اضافے کے بعد 9.37 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جبکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کے بعد اب ڈالر نو ماہ میں پہلی بار 100 روپے سے کم ہو گیا ہے۔

وفاقی وزیرِ خزانے کے مطابق 7 فروری کو زرِ مبادلہ کے ذخائر 7.59 ارب ڈالر تھے جن میں اضافہ حکومت کی کوششوں کے باعث ہوا۔

پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق وزیرِ خزانہ نے کہا کہ ’حکومت کی کوششوں نے مثبت نتائج دکھانا شروع کیے ہیں اور ہم جلد ہی اپنے اعلان کے مطابق مارچ کے مہینے کے آخر تک زرِ مبادلہ کے زخائر کو دس ارب ڈالر تک لے جائیں گے۔‘

دوسری جانب ایک لمبے عرصے کے بعد امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں اضافہ ہونے کے بعد اب امریکی ڈالر ایک سو روپے سے کم ہو گیا ہے۔

فاریکس ڈاٹ پی کے ویب سائٹ کے مطابق ڈالر 99.90 میں خریدا اور 100.45 میں فروخت ہو رہا ہے تاہم انٹر بینک ریٹ کے مطابق روپیہ 99.50 میں خریدا جبکہ 99.70 میں فروخت ہو رہا ہے۔

یاد رہے کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کے بعد پاکستانی سوشل میڈیا پر عوامی مسلم لیگ کے رہنما شیخ رشید پر تنقید کی گئی جنہوں نے اخباری بیانات کے مطابق کہا تھا کہ اگر ڈالر 98 روپے کا ہوگیا تو وہ سیاست چھوڑ دیں گے۔

وزیرِ خزانہ نے زرِمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کی وجہ مختلف ذرائع سے آمدن کو قرار دیا اور کہا کہ سال کے آغاز میں ان ذخائر میں کمی کی وجہ قرض کی ادائیگی کے لیے اقساط تھیں جن کی وجہ سے روپے پر بوجھ میں اضافہ ہوا اور جس کی وجہ سے روپے کی قدر میں کمی واقع ہوئی۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت ایک منصوبے کے تحت زرِ مبادلہ میں اضافے کی پالسی پر کاربند ہے جو کولیشن سپورٹ فنڈ، اتصالات سے بقایا جات کی وصولی اور یورو بانڈز سے وصولیوں کی مدد سے ممکن ہوگا۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار حسن کاظمی کے مطابق کرنسی مارکیٹ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں اس وقت خریدار نہ ہونے کے برابر ہیں اور بیچنے والوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔

ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں نمایاں کمی کی وجوہات کے بارے میں سی ای او ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے محمد سہیل نے حسن کاظمی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ڈالر کی قدر میں گراوٹ کی بڑی وجہ پاکستان ڈیویلپمنٹ فنڈ کی جانب سے ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد ہے جو ایک خوشگوار حیرت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چند ماہ پہلے کسی کو وزیرِ خزانہ کی اس بات پر یقین نہیں آیا تھا کہ پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر دس ارب تک جاسکتے ہیں۔

ادھر پاکستان فاریکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر ملک بوستان کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی کے ذمہ دارسٹے باز تھے جنہوں نے مارکیٹ سے ڈالر خرید کر ذخیرہ کرلیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس عمل میں کچھ بینک بھی ملوث تھے جنہوں نے ڈالر خریدنے کے لیے کارٹیل بنائے جس کا ثبوت یہ ہے کہ نجی بینکوں کے پاس سرکاری بینکوں سے زیادہ ڈالر ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب حکومت نے اس ضمن میں واضع اعلانات کیے تو اس کا اثر مارکیٹ پر بھی پڑا۔

دوسری جانب ماہرِ معاشیات ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کا کہنا ہے کے روپے کی قدر میں اضافہ بظاہر اچھی بات ہے مگر انہیں یہ سب مصنوعی لگ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشی اعداد و شمار اس کی نفی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جاری کھاتوں کا خسارہ چار سو چالیس ملین سے بڑھ کر دو بلین روپے ہوگیا ہے۔ دوسرا پاکستانی شرح نمو چار یا پانچ فیصد رہنے کا امکان ہے۔ تیسرا یہ کے پاکستان کے جو تجارتی پارٹنرز ہیں ان کے یہاں مہنگائی دو فیصد ہے اور ہمارے یہاں نو فیصد ہے تو فرق تو سات فیصدکا بہرحال ہے ۔

روپے کی قدر میں اضافے کی وجہ سے ملک کی برآمدات پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کے بارے میں ملک بوستان کا کہنا تھا پاکستان جو بھی اشیاء برآمد کرتا ہے اس کا خام مال تو درآمد ہی کرتا ہے اس لیے روپے کی قدر میں اضافے سے پیداواری لاگت میں کمی آئے گی۔

جبکہ محمد سہیل کے مطابق برآمدات پر اثر تو پڑے گا مگر اگر مجموعی حالات کو دیکھا جائے تو ملک کے لیے اچھا ہی ہوگا کیونکہ روپے کی قدر گرنے سے سرمایہ کاری کے رجحان میں بھی کمی آتی ہے۔

روپے کی قدر میں کتنا اضافہ ممکن ہے اس بارے میں ملک بوستان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت برآمد کنندگان کےدباؤ میں نہ آئے تو اگلے تین ماہ میں ڈالر نوے روپے کی سطح پر آسکتا ہے۔

اسی بارے میں