اسلام آباد کچہری میں رینجرز تعینات کرنے کی ہدایت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کمیٹی نے ان پولیس اہلکاروں کے نام بھی مانگے ہیں جو حملے کے دن ڈیوٹی پر موجود تھے

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے کچہری پر حملے کی تحقیقاتی کمیٹی نے وزراتِ داخلہ کو اسلام آباد کی کچہری میں جمعرات تک ریجنرز تعینات کرنے کے ہدایات جاری کی ہیں اور تحقیات کے حوالے سے مختلف سکیورٹی اداروں سے معاونت مانگی ہے۔

تحقیقاتی کمیٹی جسٹس شوکت عزیز صدیقی اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار میران جان کاکڑ پر مشتمل ہے۔

بدھ کو کارروائی کے پہلے دن کمیٹی نے طریقۂ کار واضح کرتے ہوئے اسلام آباد پولیس کو بھی ہدایت کی کہ جب تک اسلام آباد کے ایف ایٹ سیکٹر میں واقع کچہری کو محفوظ مقام پرمنتقل نہیں کیا جاتا تب تک وہاں پر الیٹ فورس کے سو اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی جائے۔

سی آئی اے راولپنڈی کے ایس پی شاہد رانا کی خدمات حاصل کرنے کے لیے تحقیقاتی کمیٹی نے پنجاب پولیس کو کہا ہے کہ تحقیقاتی عمل ختم ہونے تک وہ کمیٹی کی تکنیکی معاونت کریں۔ تحقیقاتی کمیٹی نے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے سے یاسین فاروق کی معانت بھی مانگی ہے۔

انٹیلیجنس بیورو کو ہدایت کی گئی ہے کہ اب تک کی تحقیقاتی رپورٹ چودہ مارچ تک جمع کرائے جبکہ آئی سی ٹی (اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری) پولیس کے انسپکڑ جنرل کو سپیشل برانچ اور ایس ایس پی کو مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کا کہا گیا ہے۔

کمیٹی کی آج کی کارروائی کے بعد جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق پاکستان انسٹیٹوٹ آف میڈیکل سائنسز کو کہا گیا ہے کہ وہ حملے کے ہلاک شدگان کے پوسٹ مارٹم رپورٹ اور زخمی افراد کی طبی رپورٹ کی کاپی فراہم کرنے کی ذمہ داری کسی ایسے اہلکار کو دیں جو ڈائریکٹر کے عہدے سے کم پر فائز نہ ہو۔

تحقیقاتی کمیٹی نے اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اوراسلام آباد ضلعی بار ایسوسی ایشن سے درخواست کی ہے کہ وہ جمعرات کو عدالت میں فہرست میں دیے گے عینی شاہدین کی موجودگی کو یقینی بنائے۔

کمیٹی نے انسپیکش ٹیم کے رکن اور ڈسٹرکٹ اور سیشن جج ملک نذیر احمد کو حملے کے زخمیوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کے لیے دو دن کا وقت دیا۔

تحقیقاتی افسر کو ہلاک ہونے والے سابق ایڈیشنل سیشن جج رفاقت احمد خان اعوان کے ریڈر ملک خالد نون اور ان کے گن مین بابر حسین کو کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

کمیٹی نے ان پولیس اہلکاروں کے نام بھی مانگے ہیں جو حملے کے دن ڈیوٹی پر موجود تھے تاکہ ان سے پوچھ گچھ کی جائے۔ کمیٹی نے حملے کے شواہد بھی مانگےہیں۔

خیال رہے اس سے قبل ا‫یف ایٹ کچہری حملے میں ہلاک ہونے والے جج رفاقت اعوان کے ریڈر نے سپریم کورٹ میں بیان دیا تھا کہ انہوں نے خود حملہ آور کو کمرۂ عدالت میں داخل ہوتے اور جج کوگولیاں مارتے دیکھا ہے لیکن پولیس ان پر دباوٴ ڈال رہی ہے کہ وہ یہ بیان نہ دیں۔

عدالت نے آئی جی اور چیف کمشنر کی رپورٹس پرعدم اطمینان کااظہار کرتے ہوئے اسلام آباد پولیس کے اثر سے آزاد یہ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی۔

جج رفاقت اعوان کے ریڈر پر بیان بدلنے کا دباؤ تحقیقات پر کتنا اثر ڈال سکتا ہے، اس سلسلے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے لاہور بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر یاسین آزاد نے کہا کہ ’اس رویے سے تحقیقات پر اثر پڑے گا اور اس سے یہ لگتا ہے کہ حکومت اور ایجنسیاں یہ ثابت کرنا چاتی ہیں کہ جج پر حملہ کسی دہشت گرد نے نہیں بلکہ انہی کے محافظ نے کیا تھا۔ ایسا کر کہ وہ اپنی نا اہلی کو چھپا رہی ہے کیونکہ ججوں کو تحفظ دینا ریاست کی ذمہ داری ہے جس سے اسلام آباد انتظامیہ بچنا چاہتی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ آپ کو معلوم ہے کہ جس طبقے کو طالبان کہا جاتا ہے ان سے مذاکرات کرنے کے لیے حکومت کمیٹی پر کمیٹی بنائی جا رہی ہے اس لیے مجھے لگتا ہے اس لیے بھی حکومت اس حملے کو دہشت گردی سے نہیں جوڑنا چاہتی۔‘

اسی بارے میں