لیاری میں فائرنگ اور دستی بم حملے، 19 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہلاک ہونے والوں میں دو خواتین اور دو بچے بھی شامل ہیں

کراچی میں لیاری کا علاقہ ایک بار پھر فائرنگ اور دستی بموں کے دھماکوں سے گونج اٹھا جبکہ بدھ کی صبح متعدد واقعات میں خواتین اور بچوں اور مبینہ ملزمان سمیت کم سے کم 19 افراد ہلاک اور تیس کے قریب زخمی ہوئے ہیں

ان واقعات کے بعد اب بھی علاقے میں شدید کشیدگی موجود ہے۔

پولیس اور رینجرز نے گذشتہ شب علی محّلے میں ایک مبینہ ملزم شیراز ذکری کو پولیس مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جو کراچی پولیس کو انتہائی مطلوب ملزم غفار ذکری کے چھوٹے بھائی بتائے جاتے ہیں۔

شیراز ذکری کی ہلاکت کے بعد مسلح افراد نے جھٹ پٹ مارکیٹ، چاکیواڑہ اور دیگر علاقوں میں دستی بم حملے اور پورے علاقے میں شدید فائرنگ کی جس میں 7 خواتین، اور 2 بچوں سمیت نو افراد ہلاک ہوگئے ہیں، جبکہ تقریباً 24 افراد زخمی ہوگئے ہیں جنھیں سول ہپستال پہنچایا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ خواتین جھٹ پٹ مارکیٹ میں خریداری میں مصروف تھیں کہ دستی بم اور فائرنگ کا نشانہ بن گئیں۔

دوپہر کو سول ہپستال میں لیاری سے تیرہ لاشیں لائی گئی ہیں، ایم ایل او ڈاکٹر راٹھوڑ نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں سات خواتین دو بچیاں اور چار مرد شامل ہیں، جن میں سے دو کی لاشیں پولیس اور رینجرز اہلکار لائے ہیں جو مقابلے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

سول ہپستال کراچی میں کشیدگی والی صورتحال ہے مشتقل افراد کی رینجرز اہلکاروں کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی، جبکہ کوریج کے لیے آنے والے صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

لیاری میں کئی گھنٹے گولیاں چلتی رہیں لیکن پولیس اور رینجرز صورتحال پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے، کئی مارکیٹیں اوردکانیں بھی بند ہوگئی ہیں، بعد میں پولیس نے ایک مزید مقابلے میں تین ملزمان کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

وزیراعظم میاں نواز شریف نے کراچی صورتحال کا نوٹیس لے لیا اور ڈی جی رینجرز سے رپورٹ طلب کرلی ہے، جبکہ اس پوری صورتحال پر سندھ حکومت نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

کراچی میں گزشتہ چند ماہ سے امن کی بحالی کے لیے رینجرز کی جانب سے ٹارگٹڈ کارروائیاں جاری ہیں اور ان کارروائیوں کے بعد ٹارگٹ کلنگ اور گینگ وار کے واقعات میں کمی تو آئی ہے لیکن مکمل طور پر ان کا خاتمہ نہیں ہوا ہے۔

یاد رہے کہ کراچی کا علاقہ لیاری قدرے ایک پسماندہ علاقہ ہے اور اکثر گینگ وار کی زد میں رہتا ہے۔

سیاسی جماعت ایم کیو ایم نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کراچی میں آپریشن کی ماضی میں تنقید کی ہے اداروں پر الزام لگایا ہے کہ ان کی سیاسی جماعت کے کارکنان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ گذشتہ ماہ حکومت سندھ نے کہا تھا کہ کراچی میں 25 لاکھ غیر قانونی تارکینِ وطن رہتے ہیں جس کی وجہ سے شہر کی صورتِ حال سنگین ہوگئی ہے۔ حکومت نے یہ موقف سپریم کورٹ میں کراچی بدامنی کیس میں جاری کیے گئے احکامات پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے سماعت کے دوران اختیار کیا۔

اسی بارے میں