پرویز مشرف کیس: خفیہ ادارے کا سربراہ عدالت میں طلب

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بینچ کے سربراہ نے کہا کہ خفیہ ادارے کی اطلاع کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے اُس خفیہ ادارے کے سربراہ کو 13 مارچ کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے جس نے عدالت میں پیشی کے موقع پرپرویز مشرف کے خلاف ہونے والے ممکنہ حملے سے متعلق وزارت داخلہ کے ادارے نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل کو خفیہ رپورٹ بجھوائی تھی۔

عدالت نے اپنے حکم نامے میں اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ کون سی خفیہ ایجنسی نے سابق صدر پر شدت پسندوں کے ممکنہ حملوں سے متعلق وزارت داخلہ کو رپورٹ بجھوائی تھی اور نہ ہی سیکریٹری داخلہ نے 11 مارچ کو عدالت میں پیش ہوکر یہ بتایا تھا کہ کون سے خفیہ ادارے نے پرویز مشرف کی خصوصی عدالت میں پیش کے موقع پر شدت پسندوں کے ممکنہ حملوں کی اطلاع دی تھی۔

تاہم اس خفیہ ادارے سے متعلق وزارت داخلہ کے حکام خصوصی عدالت کے رجسٹرار کو بتائیں گے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان کے مطابق اس وقت ملک میں 26 انٹیلیجنس ایجنسیاں ہیں اور کام کے معاملے میں ان کی آپس میں کوئی ہم آہنگی نہیں ہے۔

وزارتِ داخلہ کے ذرائع کے مطابق شدت پسندوں کے ممکنہ حملوں سے متعلق ایسی اطلاعات آئی بی یعنی انٹیلیجنس بیورو کی طرف سے ہی وزارتِ داخلہ کو بجھوائی جاتی ہیں جبکہ کبھی کھبار ٹرپل ون بریگیڈ کی طرف سے بھی ایسی خبریں موصول ہوجاتی ہیں۔

بدھ کے روز سابق صدر کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ متعلقہ حفیہ ادارے کے سربراہ 13 مارچ کو اس بارے میں عدالت کو ان کیمرہ بریفنگ دیں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ بڑا حساس معاملہ ہے اور عدالت بھی اس بارے میں جاننا چاہتی ہے کہ اصل صورت حال کیا ہے۔

اس مقدمے میں پراسیکیوٹر ٹیم میں شامل طارق حسن کا کہنا تھا کہ جب بھی پرویز مشرف نے عدالت میں پیش ہونا ہوتا ہے تو کچھ نہ کچھ ضرور ہوجاتا ہے جس پر خصوصی عدالت کے سربراہ کا کہنا تھا کہ جادو سے تو نہیں ہوجاتا ظاہر ہے اداروں کے پاس کچھ نہ کچھ معلومات تو ہوں گی۔

طارق حسن کا کہنا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اُنھوں نے پرویز مشرف پر حملے کی کوئی دھمکی دی اور جنگ بندی کے دوران کوئی حملہ کیا جائے گا جس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ ملزم کی عدالت میں آمد کے موقع پر کوئی ایسا واقعہ رورنما نہیں ہوگا۔

بینچ کے سربراہ نے کہا کہ عدالت کے علاوہ وکیل صفائی اور پراسیکیوٹر کو بھی دھمکیاں مل رہی ہیں اور ایسی صورت حال میں خفیہ ادارے کی اس اطلاع کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

سماعت کے دوران پرویز مشرف کی وکلا ٹیم کے سربراہ شریف الدین پیرزادہ نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت پرویز مشرف کو 14 مارچ کو پیش ہونے کا حکم واپس لے اور اسے 18 مارچ تک ملتوی کردیا جائے تاہم عدالت نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔

عدالت نے اس مقدمے میں پرویز مشرف کی وکلا ٹیم میں شامل رانا اعجاز پر کمرہ عدالت میں داخلے پر پابندی عائد کردی ہے اور بدھ کے روز ہونے والی سماعت میں اُنھیں کمرہ عدالت میں نہیں جانے دیا گیا۔

یاد رہے کہ رانا اعجاز نے گذشتہ سماعت کے دوران اس مقدمے کی سماعت کرنے والے عدالت کے ججز کو ’ کرائے کے قاتل‘` کہا تھا جس کے بعد عدالت نے انھیں کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا تھا۔

سابق فوجی صدر کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت 13 مارچ کو ہوگی جس میں ملزم کی طرف سے دائر کی جانے والی درخواستوں ، جن میں مشرف کو بیرون ملک جانے کے اجازت اور چیف پراسیکیوٹر اکرم شیخ کی تعیناتی شامل ہیں پر بحث کی جائے گی۔

اسی بارے میں