طالبان کمیٹی آج جنوبی وزیرستان جائےگی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نئی حکومتی تشکیل دے دی گئی ہے

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی نے کہا ہے کہ طالبان سے مذاکرات کے لیے حکومتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جبکہ طالبان کی مذاکراتی کمیٹی آج یعنی جمعرات کو شمالی وزیرستان جائے گی ۔

وزارت داخلہ کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق ،پروفیسر ابراہیم اور مولانا یوسف شاہ نے وزیرداخلہ چوہدری نثار سے اسلام آباد میں ملاقات کی۔

’کارروائی ناگزیر ہوجائے تو شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں‘

فوج نہیں مانتی

ملا قات میں فیصلہ کیا گیا کہ طالبان کی مذاکراتی کمیٹی جمعرات کو شمالی وزیرستان جائے گی اور طالبان سے بات چیت کرے گی جس کا مقصد نئی حکومتی کمیٹی کے ساتھ طالبان کی براہ راست ملاقات کے لیے وقت اور جگہ کا تعین کرنا ہے۔

ملاقات میں وزیرداخلہ نے طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کو بتایا کہ حکومت نے مذاکرات کے لیے نئی کمیٹی کی تشکیل کا فیصلہ کر لیا ہے اور امن کی راہ پر چلنے والوں کا خیر مقدم ہوگا لیکن مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔

تحریری بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ جیسے ہی طالبان کی جانب سے حکومت کی نئی کمیٹی کے ساتھ بات چیت کے لیے جگہ اور وقت کا تعین ہوگا حکومتی کمیٹی فوری طور پر شمالی وزیرستان کے لیے روانہ ہو جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چوہدری نثار علی نے مولانا سمیع الحق سے ملاقات کی

ادھر پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے ایک پریس ریلیز جاری کیا گیا۔ یہ پریس ریلیز ہے تو معمول کی جوانٹس چیفس آف سٹاف کمیٹی کے اجلاس سے متعلق تاہم اس کی آخری سطور میں واضح طور پر اس عزم کو دہرایا گیا ہے کہ فوج حکومت کی پالیسی کے مطابق دہشت گردی سے نمٹے گی۔ بیان میں کہا گیا کہ’فوج سیاسی قیادت کی طرف سے مقرر کی پالیسی حدود کے اندر اندر ایک جامع حکمت عملی کے تحت دہشت گردی کی لعنت سے لڑے گی۔‘

یاد رہے کہ بدھ کے روز ہی طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کی جانب سے ایک ناراضگی بھرا پیغام میڈیا کو ارسال کیاگیا جس میں الزام عائد کیا گیا کہ پاکستان کے سکیورٹی ادارے جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

تازہ بیان میں تحریک طالبان نے پشاور، مہمند (غلنئی ) اور کراچی سینٹرل جیل میں قید اسیروں کو چکیوں میں بند کر کے اذیت دینے کا الزام بھی لگایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی سینٹرل جیل سے بلاوجہ قیدیوں کو سندھ، پنجاب اور بلوچستان کی دیگر جیلوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

شاہد اللہ شاہد کا کہنا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان پوری سنجیدگی کے ساتھ جنگ بندی کے فیصلے پر عمل پیرا ہے اور احرار الہند اور جند اللہ جیسے گروپوں سے لاتعلقی کا اعلان بھی کر چکی ہے، تاہم حکومتی صفوں میں موجود بہت سے عناصر مذاکراتی ماحول کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں