سکیورٹی ادارے جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہے ہیں: طالبان

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption تحریکِ طالبان کے الزام کے بابت حکومت یا فوج کا ردعمل ابھی تک سامنے نہیں آیا

کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان نے سکیورٹی اداروں پر جنگ بندی کے خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرفتاریوں، چھاپوں، گولہ باری اور قیدیوں پر تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔

تنظیم کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد کی جانب سے ذرائع ابلاغ کو ای میل کے ذریعے جاری بیان میں کہاگیا ہے کہ یہ سلسلہ مذاکراتی عمل کے لیے پیدا کردہ بہتر ماحول کو متاثر کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جنگ بندی کے اعلان کے بعد پاکستانی سکیورٹی ادارے مختلف علاقوں میں مسلسل کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ باجوڑ اور مہمند ایجنسی میں گولہ باری اورسرچ آپریشن کیا جا رہا ہے۔ کراچی، پشاور، صوابی، چارسدہ کے پچیس متنازعہ دیہات اور ڈی آئی خان کی تحصیل کلاچی کے علاوہ متعدد مقامات پر سرچ آپریشن اور چھاپوں میں متعدد بےگناہ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔‘

اس بابت حکومت یا فوج کا ردعمل ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے۔کلعدم تحریکِ طالبان نے یکم مارچ سے ایک ماہ کی عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا تاکہ حکومت کے ساتھ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھایا جاسکے۔

حکومت نے بھی چند روز بعد جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس جنگ بندی کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ تحریکِ طالبان کی جانب سے سکیورٹی اداروں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

تازہ بیان میں تحریک طالبان نے پشاور، مہمند (غلنئی ) اور کراچی سینٹرل جیل میں قید اسیروں کو چکیوں میں بند کر کے اذیت دینے کا الزام بھی لگایا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ کراچی سینٹرل جیل سے بلاوجہ قیدیوں کو سندھ، پنجاب اور بلوچستان کی دیگر جیلوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

شاہد اللہ شاہد کا کہنا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان پوری سنجیدگی کے ساتھ جنگ بندی کے فیصلے پر عمل پیرا ہے اور احرار الہند اور جند اللہ جیسے گروپوں سے لاتعلقی کا اعلان بھی کر چکی ہے، تاہم حکومتی صفوں میں موجود بہت سے عناصر مذاکراتی ماحول کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ’حکومت کو چاہیے کہ ایسے عناصر کو قابو کرکےان کی سرزنش کرے۔‘

انہوں نے کہا کہ تحریکِ طالبان کے کسی فرد کو جنگ بندی کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی تاہم انھوں نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ ان واقعات کا فوری نوٹس لے کر ان کے روک تھام پر توجہ دے تاکہ مذاکراتی عمل خوشگوار ماحول میں چل سکے۔

اسی بارے میں