تاسیف علی اچانک ڈیڑھ برس بعد برآمد

Image caption سپریم کورٹ کی جانب سے کورٹ مارشل کی استدعا مسترد کرتے ہوئے میجر احسن کو پولیس کے حوالے کرنے کے حکم کے بعد تاسیف علی اچانک منظر عام پر آ گئے ہیں

پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے ملٹری انٹیلی جنس کے ایک افسر کو اغوا کے مقدمے میں تفتیش کے لیے پولیس کے حوالے کرنے کے حکم کے بعد ڈیڑھ برس سے لاپتہ تاسیف علی اچانک برآمد ہو گئے ہیں۔

یہ سابق کشمیری شدت پسند اور میرپور کے تاجر ڈیڑھ برس قبل ملٹری انٹیلی جنس کے ایک افسر کے ساتھ جھگڑے کے بعد سے لاپتہ تھے۔

ان کی اہلیہ کی درخواست پر سپریم کورٹ نے حکم جاری کیا تھا کہ اس فوجی افسر کو اغوا کے مقدمے میں پولیس کے حوالے کیا جائےگا۔

تاہم سپریم کورٹ کی جانب سے طے کردہ حتمی تاریخ سے قبل ہی فوج کی جانب سے وکیل شاہ خاور نے تسلیم کر لیا ہے کہ تاسیف علی کو چار مارچ کو صوابی سے گرفتار کیا گیا تھا اور وہ اب وہاں پاکستانی فوج کے زیراہتمام حراستی مرکز میں ہیں۔

جناب جسٹس ناصر الملک اور جناب جسٹس عظمت رشید پر مشتمل بینچ نے گزشتہ سماعت پر وزارتِ دفاع کے وکیل ابراہیم ستی سے کہا تھا کہ وہ تاسیف علی کے مبینہ اغوا میں ملوث میجر محمد احسن علی کو مقدمے کی تفتیش کے لیے پولیس کے سامنے پیش کر دیں۔

ابراہیم ستی نے عدالت کو بتایا تھا کہ میجر حیدر کے نام سے مشہور ملٹری انٹیلی جنس کے اس میجر کے خلاف فوج کورٹ مارشل کی کارروائی کرنا چاہتی ہے۔

میجر محمد احسن علی عرف میجر حیدر پر الزام ہے کہ وہ تاسیف علی کے اغوا میں ملوث ہیں۔ یہ مبینہ سابق کشمیری شدت پسند دو برس سے لا پتہ ہے۔

فوج اور ملٹری انٹیلی جنس کے عدم تعاون کے باوجود پولیس نے سر توڑ کوششوں کے بعد نہ صرف تاسیف علی کے ’لاپتہ‘ ہونے کا سراغ لگا لیا تھا بلکہ میجر حیدر کے کوڈ نام سے مشہور میجر محمد احسن علی کا اصل نام اور موجودہ پوسٹنگ بھی معلوم کر لی تھی۔

سپریم کورٹ کی جانب سے کورٹ مارشل کی استدعا مسترد کرتے ہوئے میجر احسن کو پولیس کے حوالے کرنے کے حکم کے بعد تاسیف علی اچانک منظر عام پر آ گئے ہیں۔

یوں میجر احسن پولیس تفتیش سے تو بچ گئے ہیں لیکن ان کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی کی جائے گی۔

اسی بارے میں