’مجھے معلوم ہے پولیس موجود ہے مگر آخر انسان ہوں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ مہم ہفتے کے ایک روز بارہ ہفتوں تک چلے گی، جس میں تقریباً پانچ ہزار پولیس اہلکار اور اتنے ہی کارکن اور پاکستان تحریکِ انصاف کے رضاکار حصہ لیتے ہیں

کچھ دہائیوں پہلے چوکیدار سعد مبین افغانستان کے شہر جلال آباد سے بھاگ کر پاکستان آئے۔ اپنے آپ کو تارکینِ وطن کہتے ہوئے ہنسنے لگے، کیونکہ انہیں یہاں رہتے ہوئے اتنا عرصہ گزر گیا ہے۔ اپنی ٹوٹی پھوٹی اردو میں انہوں نے مجھے کہا کہ جو لوگ انسدادِ پولیو ویکسین کے خلاف ہیں وہ ’برے لوگ ہوتے ہیں‘۔

سعد پشاور کے نواحی علاقے، جسے آبشار کالونی کہتے ہیں، کی ایک کچی آبادی میں رہتے ہیں۔ ایک طرف ہرے بھرے کھیت ہیں اور قریب، خیبر اور محمند ایجنسیوں کے شورش زدہ علاقے۔ کچھ ہی گھنٹے پہلے، جمرود ایجنسی میں پولیو ٹیموں کے ساتھ سکیورٹی فراہم کرنے والے تیرہ پولیس اہلکار بم حملوں میں مارے گئے تھے۔ ہمیں بتایا گیا کہ جمرود آبشار کالونی سے پندرہ کلومٹر کے فاصلے پر ہے۔ میں نے سعد موبین سے اس بستی میں آنے والے پولیو کارکنوں کے بارے مزید پوچھنا چاہا، تاہم، ہمارے ساتھ پولیس اہلکاروں نے ہمیں یہاں سے نکلنے کو کہا۔ ’یہاں پر خطرہ ہے۔‘

مجھے اور آٹھ دیگر صحافیوں کو خیبر پختونخوا کی حکومت نے صحت کا انصاف مہم کی نگرانی کرنے پشاور کا دورا کروا رہے تھے۔ یہ مہم ہفتے کے ایک روز بارہ ہفتوں تک چلے گی، جس میں تقریباً پانچ ہزار پولیس اہلکار اور اتنے ہی کارکن اور پاکستان تحریکِ انصاف کے رضاکار حصہ لیتے ہیں۔ ویسے ان رضاکاروں میں سے بہت سارے وہ بھی شامل ہیں جنہوں نے نیٹو کے ٹرکوں کو روکنے کی مہم میں حصہ لیا تھا۔ شہر کے سرکاری اہلکار اور پولیس اس مہم کی نگرانی اور رابطہ کاری کا کام کرتے ہیں، اور مقصد پشاور سے وائرس کا خاتمہ ہے۔

مہم کی رات ہی سے پولیس اہلکاروں کا کام شروع ہو جاتا ہے، جب پرخطر علاقوں کی تلاشی لی جاتی ہے۔ مہم کے روز، شہر میں کرفیو نافذ کردیا جاتا ہے اور مختلف علاقوں کے داخلی اور خارجی راستوں اور گھروں کی چھتوں پر پولیس کے عملے کو تعینات کیا جاتا ہے۔ عملے کی تعداد تو بہت ہے، لیکن اس قسم کی صف بندی کا مقصد یہ ہے کہ پولیس سکیورٹی ایک طرح سے پوشیدہ رہے۔

تاہم، ہیلتھ ورکر مسرت بانو مطمیئن نہیں ہیں۔ ’مجھے معلوم ہے کہ پولیس موجود ہے۔ مگر آخر انسان ہوں، ڈر تو پھر بھی لگتا ہے۔‘

پشاور پولیس لائنز کے ایس پی حسنین رات کو دو گھنٹوں سے زیادہ سوتے نہیں ہیں۔ انہوں نے ہم سے رات کو پشاور کے ڈسٹرکٹ کمشنر کے گھر پر ملاقات کی تو انہوں نے جینز اور جیکٹ پہن رکھی تھی۔ ادھر ہمیں بتایاگیا اس مہم میں شریک پولیس کی ٹرانسپورٹ اور کھانے کے انتظام کے لیے بین الاقوامی اداروں نے رقم فراہم کی ہے۔

اگلے روز، جس دن مہم چلنی تھی، ایس پی حسنین نے وہی جنیز اور جیکٹ پہنے خطاب میں اپنے جوانوں کی حوصلہ افزائی کی اور ناشتے کے لیے بھیج دیا۔ طلوعِ آفتاب سے پہلے کا وقت تھا اور اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ کڑک چائے، پراٹھے، چنے اور چکن کے ناشتے پر انہوں نے کہا کہ پشاور اب جنگ زدہ علاقہ بن گیا ہے۔

انہوں بتایا کہ گذشتہ سال جب پولیو ٹیموں پر حملوں میں اضافہ ہوا، تو ہر ہیلتھ ورکر کے ساتھ دو پولیس اہلکار ساتھ جاتے تھے۔ ’وہ آسان ہدف تھے۔ اور کبھی کبھار یہ نہیں پتہ چلتا تھا کہ پولیو ٹیم پر حملہ کیا جا رہا ہے یا پولیس پر۔‘ پولیس اور سرکاری اہلکاروں کا دعویٰ ہے کہ جب سے اس نئے انسدادِ پولیو مہم کا آغاز ہوا ہے، پشاور میں پولیو ٹیموں پر حملے رک گئے ہیں۔

تاہم، ملک دیگر حصوں میں حملے جاری ہے، جن میں خیبرپختونخوا اور وہ ایجنسیاں شامل ہیں جو پشاور سے زیادہ دور نہیں۔ اس کے علاوہ جب سے تحریکِ طالبان پاکستان نے پولیو مہم پر پابندی لگائی ، شمالی وزیرستان کے لاکھوں بچوں کو قطرے نہیں پلائے گئے۔ ادھر کراچی میں بھی کیسز سامنے آرہے ہیں جبکہ پولیو ٹیموں کی سکیورٹی بھی بہت بڑا مسئلہ ہے۔

اس کے باوجود کہ عالمی ادارئے صحت کے مطابق، دنیا بھر کے پولیو وائرس میں سے نوے فیصد کا جینیاتی تعلق پشاور سے ہے، شام میں دریافت ہونے والے پولیو وائرس کا تعلق سکھر سے نکلا اور چین کے وائرس کا تعلق بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ سے۔ اور صحت کے انصاف جیسی تشہیر کے بغیر، بلوچستان میں پندرہ ماہ سے کوئی بھی کیس سامنے نہیں آیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پشاور میں شاید کوئی ہی ایسی جگہ ہو گی جہاں صحت کے انصاف کے بینر اور پوسٹر نہ لگے ہوں۔ ان کے رنگ پاکستان تحریکِ انصاف کے جھنڈے کے رنگ ہیں، ہرا، لال اور سفید۔ ان بینرز میں ایک پیاری، ہنستی مسکراتی بچی ہوتی ہے اور ایک بالٹی۔ یہ بالٹی یونیسیف کی جانب سے دی گئی حفظانِ صحت کے سامان میں شامل ہے جو والدین کو اپنے بچوں کو قطرے پلوانے پر ملتا ہے۔

کارکن مسرت بانو نے بتایا کہ والدین کو قریبی ہسپتال میں خسرہ اور یرقان جیسی بیماریوں کے ٹیکوں کے لیے کوپن بھی دیے جاتے ہیں۔ جب میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کو کیسے معلوم ہوتا ہے کہ کتنے والدین نے کتنے ٹیکے لگوائے، تو وہ واضح جواب نہ دے سکیں۔

آج، یعنی جمعے کے روز، اس سال کا کراچی کا پہلا کیس سامنے آیا ہے۔ دو سالہ مزلیفا بلدیہ ٹاؤن کی رہائشی ہیں۔وزیرِ اعظم کے پولیو سیل کے مطابق، اس سال اب تک پولیو کے 29 کیسز سامنے آچکے ہیں جبکہ اسی دوران، گذشتہ برس، صرف چار تھے۔

صحت کا انصاف ایک بھر پور اور ہنگامی مہم ہے، لیکن اسی طرح کی مہم خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع کے علاوہ کراچی اور خصوصاً شمالی وزیرستان میں کتنی قابلِ عمل ہے؟

اسی بارے میں