تھر: خون کی عدم دستیابی، چار بچے ہلاک

Image caption سرکاری رکارڈ کے مطابق تھر میں ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد انہتر ہوگئی

پاکستان کے صحرائی علاقے تھر میں خوراک کی قلت کے بعد اب بچے خون کی عدم دستیابی کے باعث بھی موت کا شکار ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے بدھ کی شب مزید چار بچے ہلاک ہوگئے ہیں۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق تھر میں ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد انہتر ہوگئی ہے، جبکہ مقامی میڈیا یہ تعداد 140 بتاتی ہے۔

معصوم چونو اور سکینہ سول ہسپتال مٹھی میں زیر علاج تھے جہاں انھیں نمونیا اور خون کی کمی کی تشخیص کی گئی تھی بدھ کی شب دونوں ہلاک ہوگئے۔

مٹھی ہپستال کے ایک ڈاکٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ سکینہ خون کی عدم دستیابی کے باعث انتقال کر گئیں۔ انھوں نے بتایا کہ سکینہ کے والدین کو خون کا بندوبست کرنے کے لیے کہا گیا تھا لیکن وہ ڈونر کا انتظام نہیں کرسکے۔

واضح رہے کہ پندرہ لاکھ کی آبادی میں کوئی بھی ایسا انتظام نہیں جس کے تحت بلڈ بینک میں ایمرجنسی کے لیے خون دستیاب ہو، مٹھی ضلعی ہپستال میں بھی مریض اپنے ساتھ ڈونر لاتے ہیں اور صرف خون کی منتقلی کی جاتی ہے۔

سول ہپستال مٹھی میں دو بچے مردہ حالات میں لائے گئے، جن میں چھ ماہ کے رام چند کولھی کو ننگر پارکر کے گاؤں چوڑیو اور دو ماہ کے آصف کو سنتورو فارم سے لایا گیا تھا، جو راستہ میں ہی دم توڑ گئے تھے۔

متاثرین نے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ ان کے پاس ابھی تک میڈیکل ٹیمیں نہیں پہنچ سکیں ہیں اسی لیے وہ بچوں کو مٹھی لائے۔

دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ میں سندھ کے چیف سیکریٹری کی جانب سے کمنٹس دائر کیے گئے ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ساڑھے ستاسی ہزار بیگس متعلقہ حکام کے حوالے کردیے گئے ہیں، جبکہ تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی پولیس ثنا اللہ عباسی کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی گئی جس کی روشنی میں مثالی سزائیں دی جائیں گی۔

ہائی کورٹ میں تھر کی صورتحال پر ازخود نوٹس کیس کی اگلی سماعت 18 مارچ کو ہوگی۔

دریں اثنا سندھ کے رلیف کشمنر تاج حیدر کا کہنا ہے کہ تھر کے متاثرین میں 52 ہزار گندم کی بوریاں تقسیم کردی گئی ہیں، ضلعے میں ایک لاکھ بیس ہزار بوریاں تقسیم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ محکمۂ خوراک کے دوسرے سینٹروں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ گندم تھر منقتل کی جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ کنویں کے قریب جانوروں کی تقسیم کا بھی بندوست کیا جا رہا ہے اور جن چراگاہوں پر قبضے کی شکایت ملی ہیں ان سے قبضہ ختم کرایا جائے گا۔

ادھر خیبر پختون خواہ سے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم بھی کراچی پہنچ گئی ہے، جس میں پانچ لیڈی ڈاکٹرز بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں