وادیِ سندھ کا دائم و قائم دیوتا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شاہ صاحب واحد شخصیت ہیں جو تین مرتبہ سندھ کے وزیرِ اعلی بنائے گئے

جب ذوالفقار علی بھٹو کو دیگر صوبوں کی طرح سندھ میں بھی کوئی سیاسی چھاؤں میں بٹھانے کے لیے تیار نہیں تھا، کوئی اپنے ہوٹل میں کمرہ دینے پر آمادہ نہ تھا اور انہیں کسی بھی ضلع میں نومولود پیپلز پارٹی کے تنظیمی عہدے بھرنے کے لیے مناسب لوگ بھی پورے نہیں مل رہے تھے تب خیرپور میں ایک چونتیس سالہ مڈل کلاس وکیل قائم علی شاہ جیلانی نے حامی بھری کہ اس ضلع میں آپ کے ساتھ میں ہوں۔

وہ دن اور آج کا دن بھٹوؤں کی تین نسلیں بدل گئیں، دو فوجی ڈکٹیٹر آئے چلے گئے، بہت سے سیاسی مسافر پیپلز پارٹی کو پسنجر ٹرین سمجھ کر چڑھتے اترتے چڑھتے رہے۔ کچھ کو اجل اغوا کر کے لے گئی،کچھ ویسے غائب ہوگئے، کچھ راستے میں تھک گئے۔ خود پیپلز پارٹی بھی تہتر کے آئین کی طرح بدل گئی مگر شاہ صاحب اسی طرح موجود و مسلسل ہیں۔ ایسی نسل در نسل وفاداری کی دوسری مثال ہالہ کا مخدوم خاندان ہے۔

یہ ٹھیک ہے کہ وفاداری بشرطِ استواری اصل ایماں ہے لیکن اس سے آگے بھی تو کچھ ہوگا یا ہونا چاہئیے۔ شاہ صاحب واحد شخصیت ہیں جو تین مرتبہ سندھ کے وزیرِ اعلی بنائے گئے اور ہر مرتبہ یہ تاثر ابھرا کہ جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا؟ تو کیا شاہ صاحب میں کوئی ایسی خاص خوبی ہے کہ پیپلز پارٹی کا انہیں وزیرِ اعلی بنائے بغیر گزارہ نہیں یا انہیں ہر بار وزیرِ اعلیٰ بنانے والے شاہ صاحب سے زیادہ ذہین و آزمودہ ہیں۔

اس کے لیے ہمیں پیپلز پارٹی کے عملی ڈھانچے کو دیکھنا ہوگا۔ پاکستان کی ہر قومی جماعت کی طرح پیپلز پارٹی بھی ایک سیاسی قبیلہ ہے جس کا سردار فرانسیسی شہنشاہ لوئی چہار دہم ہوتا ہے۔ وہی لوئی جس نے کہا تھا ریاست کیا ہے؟ ریاست میں ہوں۔

ایسے ماحول میں سردار کے سوا کسی کا بھی ریڑھ کی ہڈی پر کھڑے رہنا توہین آمیز جرم ہے۔ بلکہ سردار بیٹھنے کا حکم دے تو لیٹ جانا زیادہ افضل ہوتا ہے۔ جو لوگ یہ راز نہیں سمجھ پاتے وہ راندہِ درگاہ ہوجاتے ہیں۔

ویسے تو ہر حکمراں سردار نے پاکستانی وفاقی یونٹوں کو تب سے ریموٹ کنٹرول کے تابع رکھنا چاہا جب ریموٹ کنٹرول ایجاد بھی نہیں ہوا تھا۔ لیکن ایک روز بنگال نے ریموٹ کنٹرول توڑ دیا اور پنجاب نے اپنا ریموٹ کنٹرول خرید لیا۔

رہ گئے بلوچستان اور سندھ ۔ تو نہ تو وہ بنگال بن سکے اور نہ ہی پنجاب۔ چنانچہ جرمِ ضعیفی کا بھگتان یہ ہے کہ دونوں آج بھی ریموٹ کنٹرولڈ ہیں بلکہ یہاں روبوٹس کے ذریعے حکمرانی کا کامیاب تجربہ بھی مسلسل ہے۔ حالانکہ نواب اسلم رئیسانی اور سائیں قائم علی شاہ وغیرہ پنجاب اور خیبر پختون خواہ میں بھی پائے جاتے ہیں لیکن ان کے کاشت کاروں کو بلوچستان اور سندھ کی زمین اور آب و ہوا زیادہ راس ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کے صحرائی علاقے تھر میں حال ہی میں خوراک کی قلت اور دیگر مسائل کے باعث ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد انہتر ہوگئی ہے، جبکہ مقامی میڈیا یہ تعداد 140 بتاتی ہے

سائیں قائم علی شاہ صاحب کی ہمیشہ کی طرح آج بھی قصرِ اقتدار میں وہی اہمیت و عزت ہے جو کسی بھی خاندان کے وضع دار بزرگوں کی ہوتی ہے ۔کیونکہ ایسے بزرگ نہ کسی کا برا سنتے ہیں، نہ کسی کو برا کہتے ہیں اور نہ کسی میں برا دیکھتے ہیں۔ خاندان کے لونڈے لپاڑے ان کے نام پر کچھ بھی کریں یا نہ کریں سب کے لیے ’شاباس‘ برابر ہے۔

بلکہ یہ بزرگ تو ایک مقدس مجسمے کے مانند ہوتے ہیں جن پر چڑھاوا چڑھا کر آپ کوئی بھی منت مان سکتے ہیں۔ ان کے نام پر نذرانہ دے اور لے سکتے ہیں، ان سے منسوب مہر لگا کر فرامین و فتاوی جاری کرسکتے ہیں، پنڈت گیری کر سکتے ہیں۔ مگر مقدس مجسمے کے لبوں پر فنا و بقا سے آزاد مسکراہٹ قائم رہتی ہے۔ جب ضروری ہوا پروہتوں نے الماری میں رکھ دیا۔ جب مناسب ہوا باہر نکال، اشنان کروا، ہار پھول پہنا نظریاتی اشلوک پڑھ ان کے نام پر دھونی پھر سے رما دی۔

ایسے مقدس مجسمے کے سامنے دوزانو ہو کر ایسی معمولی معمولی فریاد کرنا کسے اچھا لگتا ہے کہ ہے بھگوان لیاری میں مارا ماری بند کرواؤ۔ ہے پربھو تھر کے بیمار جانوروں اور انسانوں کو تندرست کردو۔ راجیہ کے سب پرگنوں کی پرجا کو سوکھی ہی سہی بھرپیٹ روٹی دے دو۔ ہے مہادیو کرپشن کرنے والوں کا ناش مار دو، سندھ بھومی پر تعلیم کی کرنیں اجال دو۔ راج پاٹ کو لاقانونیت کے جنجال سے بچا لو۔ کچھ تو کرو، کچھ تو کرو، کچھ تو کرو مہا رشی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ان فریادوں پر پوتر مجسمے کے لبوں پر دائمی مسکراہٹ نہ ناچے تو پھر کیا ناچے۔ یہ مطالبےمقدس چپ دیوتا سن لے تو پروہت کہاں جائیں۔ ان کی کیسے چلے۔ ان کے پیٹ کا کیا ہو۔ نذرانے کون لے دے۔ اشلوکوں اور ڈنڈوت کا کیا بنے۔ اور پھر کون بیٹھے گا دائم و قائم دیوتا کے چرنوں میں منتیں مرادیں پانے کے بعد بھی؟؟؟

تو کیا تم موہن جو دڑو کی تاریخ بالکل ہی نہیں جانتے ؟؟؟

اسی بارے میں